ماسکو (صدائے روس)
ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں غیر ملکی شہریوں کے لیے تیسرا سالانہ ادبی مقابلہ (مائی سول – روس) آف لائن فارمیٹ میں کامیابی سے منعقد ہوا۔ یہ مقابلہ روس میں زیر تعلیم بین الاقوامی طلبہ کے لیے روسی زبان و ادب سے وابستگی کو فروغ دینے، ثقافتی تبادلے کی راہ ہموار کرنے اور دوستی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس مقابلے کا انعقاد “روسی دنیا” گرانٹ فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا گیا، جو روسی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ مقابلہ اس بار روس کے قومی دن اور معروف روسی شاعر الیگزینڈر سرگیو یچ پوشکن کی 225 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا گیا۔
یہ ادبی مقابلہ گزشتہ تین سالوں سے منعقد ہو رہا ہے اور ہر سال مختلف ممالک کے غیر ملکی طلبہ کی بڑی تعداد اس میں شرکت کرتی ہے۔ اس بار مقابلے میں دنیا کے 32 مختلف ممالک سے 50 طلبہ نے شرکت کی، جو ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے علاوہ مختلف روسی جامعات جیسے کہ:
ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی اور اس کی شاخیں (چیباکساری، کولومنا) D.I. مینڈیلیئیو کیمیکل ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور اس کی نوموسکو شاخ ماسکو ایوی ایشن انسٹی ٹیوٹ (MAI) ساؤتھ یورال اسٹیٹ ایگریکلچرل یونیورسٹی ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی آف سول انجینئرنگ (MGSU) روسی یونیورسٹی آف ٹرانسپورٹ (RUT-MIIT) “ویویلوف” ایگریکلچرل یونیورسٹی
ماسکو آٹوموبائل اینڈ روڈ کنسٹرکشن اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی (MADI) نیشنل ریسرچ ٹیکنیکل یونیورسٹی (MISIS)
ماسکو پاور انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ (MPEI) ٹومسک اسٹیٹ یونیورسٹی (TSU) یولیانوسک اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی (UlGTU) اس مقابلے میں شریک ہوئیں.
اس بار ادبی مقابلے کے ساتھ ساتھ کئی ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔ ان میں “روسی شاعر اور مصنفین” پر ایک سیمینار اور کوئز، دریائے ماسکو کی سیر، اے ایس پوشکن کے سرکاری میوزیم اور میخائل لیرمونتوف کے ریزیڈنسی کی سیر شامل تھیں۔. روسی زبان سیکھنے والے ابتدائی طلبہ اور. روس میں زیر تعلیم بیچلر، ماسٹرز اور اسپیشلسٹ پروگرامز کے طلبہ میں مقابلہ دو مختلف کیٹیگریز میں منعقد ہوا.
مقابلے میں جیوری کے فرائض معروف ماہرین کے ایک پینل نےادا کئے، جن میں ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی کی بین الاقوامی امور کی پرو وائس چانسلر – جولیا داؤیدووا .اسٹولیسا ثقافتی و تعلیمی سوسائٹی کے صدر – الیگزینڈر بابایف،روس -افریقہ کلب کے ایگزیکٹو سیکرٹری – ایلیا شرشنیو، اتاترک یونیورسٹی کے پروفیسر – ہادی بیک روسی صحافیوں کی یونین کے رکن – موسیٰ عادل جارج، ” صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اور سوویت نیشنلٹیز” میگزین کے بین الاقوامی امور کے مشیر – سید اشتیاق حسین ہمدانی ، نیو ایرا ہیومینیٹیرین ٹیکنالوجی سینٹر کی ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن – ماریا سوشینتسووا شامل تھے.
جبکہ مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ میں موئیو اونیسٹ مبوبے (زمبابوے، ایم اے آئی) رامیادریسوا تسیمالی جین ایمی (مڈغاسکر، ایم اے آئی) تمام علی (شام، آر یو ٹی – ایم آئی آئی ٹی)حمدی حکمت اللہ (افغانستان، نوسکوفسکی میندلیف یونیورسٹی) جلینا اولیگ (البانیا، ایم آئی ایس آئی ایس) ہادی آیا النور (شام، ایم جی ایس یو) الشیر شیہاب الدین ناجی امہمد (لیبیا، جنوبی یورال ایگریکلچرل یونیورسٹی)ابرور ایلیون (انڈونیشیا، ٹی جی یو) مامیدوا سمیرا (ترکمانستان، واویلوف یونیورسٹی) دوسری کیٹیگری: بیچلرز، ماسٹرز اور اسپیشلسٹ پروگرام کے طلبہ ماتا کا ٹیرنس تپیوا (زمبابوے، اُل جی ٹی یو)وو تھی وان این (ویتنام، ایم اے ڈی آئی) سافو چیکایا دریئک جورفانی (کانگو، میندلیف یونیورسٹی) باکپے سبیرو (بینن، ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی) عباسوف ایوب عباس اوغلو (آذربائیجان، کولوما برانچ – ماسکو پولی ٹیک) یوسوپوا بانو (ترکمانستان، چیبوکساری برانچ – ماسکو پولی ٹیک) شامل تھے.
مقابلے میں شریک ایک طالب علم، تاجکستان سے تعلق رکھنے والے جمازودا جاسور نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ مقابلہ میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ مجھے دوسرے ممالک کے طلبہ سے ملنے اور روسی زبان سیکھنے والوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔ میں خاص طور پر ‘روسی شاعر اور مصنفین’ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے بہت متاثر ہوا اور مجھے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔ میں اس بہترین پروگرام کے انعقاد پر منتظمین کا شکر گزار ہوں۔”