روس امن چاہتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس سے پہلا خطاب
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے 2025 کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو روس سے “مضبوط اشارے” ملے ہیں کہ وہ یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے امن کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کی ہے اور ہمیں مضبوط اشارے ملے ہیں کہ وہ امن کے لیے تیار ہے۔ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ، کانگریس کے ارکان اور سپریم کورٹ کے ججز سمیت دیگر مہمان موجود تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں اب تک کا طویل ترین صدارتی خطاب کیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب 1 گھنٹہ 40 منٹ سے زائد جاری رہا۔ اس سے قبل طویل صدارتی خطاب سابق صدر بل کلنٹن نے کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کانگریس سے پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پھر سے میدان میں آ گیا ہے، ہم نے ڈیڑھ ماہ میں جتنا کام کیا، اتنا دیگر نے 4 سال میں کیا۔ اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹ کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، ڈیموکریٹ میرے لیے کھڑے نہیں ہوں گے، ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ابھی تو کام شروع ہی کیا ہے، معیشت کی بحالی میری اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، جوبائیڈن نے انڈوں تک کی قیمت لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر کردی تھی۔