واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی جریدے فوربز نے سال 2025 کے لیے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے سب سے مالدار شخص قرار پائے ہیں۔
سال 2024 کے دوران، ٹیسلا کے شیئرز گرنے کے باوجود، ایلون مسک کی دولت میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر اسپیس ایکس، نیورالنک، اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قدر کی بدولت ممکن ہوا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایلون مسک 342 ارب ڈالرز کی دولت کے مالک ہیں، اور یہ پہلا موقع ہے جب کسی فرد نے اتنی بڑی دولت کے ساتھ فوربز کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہو۔
فوربز کی 39ویں سالانہ فہرست کے مطابق، اس وقت دنیا میں 3028 ارب پتی موجود ہیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سال 2024 کے دوران، 247 نئے ارب پتیوں کا اضافہ ہوا، جس سے دنیا کی مجموعی ارب پتی دولت میں 2 ہزار ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ اب ارب پتی افراد کی مجموعی دولت 16 ہزار ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے، جو عالمی معیشت میں دولت کے ارتکاز کو ظاہر کرتی ہے۔
ایشیا میں، بھارت کے معروف صنعت کار مکیش امبانی 92.5 ارب ڈالرز کی دولت کے ساتھ خطے کے سب سے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں وہ 18ویں نمبر پر ہیں۔ مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے 2024 میں نمایاں ترقی کی، جس نے ان کی دولت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس، جو ماضی میں کئی سالوں تک دنیا کے امیر ترین شخص رہ چکے ہیں، اس سال کی فہرست میں 13 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ ان کی دولت 108 ارب ڈالرز رہ گئی ہے، جو ٹیکنالوجی سیکٹر میں دیگر کمپنیوں کے عروج اور ان کے ذاتی فلاحی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔