ہومتازہ ترینپابندیوں میں نرمی کی امید: سنگاپور کو روسی گوشت کی برآمدات کا...

پابندیوں میں نرمی کی امید: سنگاپور کو روسی گوشت کی برآمدات کا امکان

پابندیوں میں نرمی کی امید: سنگاپور کو روسی گوشت کی برآمدات کا امکان

ماسکو (صداۓ روس)
روس اور سنگاپور کے درمیان تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور امکان ہے کہ جلد ہی روسی گوشت سنگاپور کو برآمد کیا جا سکے گا۔ روس کے سنگاپور میں سفیر نکولائی کوداشیف نے روزنامہ “ازویستیا” سے گفتگو میں یہ بات کہی۔ روسی سفیر کے مطابق 2022 کے بعد سے روس اور سنگاپور کے درمیان باہمی تجارت میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں 4.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ روسی برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہے۔

نکولائی کوداشیف نے مزید بتایا کہ: “ہم روسی گوشت کی مصنوعات کو سنگاپور کی منڈی میں داخل کروانے پر کام کر رہے ہیں، جس میں خاص طور پر حلال مصنوعات کے سرٹیفکیٹس کو باہمی طور پر تسلیم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ سنگاپور میں روسی کمپنیوں کی کاروباری مشنز باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں اور سنگاپور کی مقامی کاروباری برادری روسی اداروں کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

سفیر نے مستقبل کے دیگر شعبوں کی نشاندہی بھی کی، جن میں مالیاتی خدمات (خصوصاً ڈیجیٹل مالیاتی اثاثے)، روبوٹکس، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی شامل ہیں. سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم آسیان کا واحد ملک ہے جس نے روس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اگر سنگاپور اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے، تو یہ روس کے لیے خطے میں اپنے سفارتی اور تجارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہو گا۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی مشاورت اور عالمی پلیٹ فارمز پر باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل