ہوم1941-1945-دوسری-جنگ-عظیمدوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کا سوویت یونین پر ظلم: تاریخ...

دوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کا سوویت یونین پر ظلم: تاریخ کا سیاہ باب

اشتیاق ہمدانی

دوسری جنگ عظیم کے دوران، نازی جرمنی نے سوویت یونین کے خلاف اپنی جارحیت کی شدت کو بڑھا دیا، جس کا اثر نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ سوویت عوام پر بھی گہرا پڑا۔ نازی فوج کے حملے اور سوویت سرزمین پر ان کے ظلم و ستم نے ایک ایسا داغ چھوڑا جو انسانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ ظلم اور جبر محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ نازیوں کے اذیت ناک حربوں میں انسانیت کے خلاف گھناؤنی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔ جرمن فوج نے 22 جون 1941 کو سوویت یونین پر حملہ کیا اور اس کی سرحدوں میں گہرائی تک داخل ہو گئے۔ اس حملے کو “آپریشن باربروسا” کا نام دیا گیا۔ نازیوں نے سوویت علاقوں پر بے تحاشا بمباری کی، شہر شہر اور گاؤں گاؤں کو تباہ کیا۔ سوویت شہریوں کو گولیوں سے بھرا، ان کے گھروں اور زمینوں کو جلا دیا گیا۔ جنگ کے آغاز میں ہی جرمن فوج نے لاکھوں سوویت شہریوں کو قتل کیا، جن میں بچے، عورتیں اور بزرگ شامل تھے۔

نازی فوجیوں نے سوویت فوجیوں کے ساتھ بھی بدترین سلوک کیا۔ لاکھوں سوویت فوجی جنگی قیدی بن گئے، اور انہیں نہ صرف شدید جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بھوک اور بیماریوں کا بھی شکار ہونا پڑا۔ جرمن فوجیوں نے سوویت قیدیوں کو کیمپوں میں منتقل کیا، جہاں ان کو انتہائی غیر انسانی حالات میں رکھا گیا۔ ان کی حالت اتنی خراب تھی کہ بہت سے قیدی موت کے دہانے پر پہنچ گئے۔ جرمن فوج نے سوویت یونین کے مختلف علاقوں میں موجود یہودیوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کے خلاف بھی بدترین ظلم ڈھایا۔ “ہولوکاسٹ” کے دوران، لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا گیا، ان کو کیمپوں میں لے جا کر اذیتیں دی گئیں اور اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ سوویت یونین میں کئی ایسے شہر اور گاؤں تھے جہاں نازیوں نے ساری آبادی کو قتل کر دیا یا انہیں جبراً قتل کرنے کے لیے لے جا کر دفن کر دیا۔

اگرچہ نازیوں کے ظلم و ستم کے باوجود سوویت یونین نے اپنے دفاع میں غیر معمولی حوصلہ دکھایا۔ سوویت عوام اور فوجیوں نے اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ جنگ کے اختتام تک، سوویت یونین نے نازیوں کو شکست دی اور اپنی سرزمین کو آزاد کر لیا۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے میں جو انسانی، مادی اور ثقافتی نقصان ہوا، وہ ایک ایسا زخم تھا جو سوویت یونین کے عوام کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔

نازی فوج کے سوویت یونین پر کیے جانے والے ظلم کا اثر نہ صرف جنگ کے دوران بلکہ اس کے بعد بھی طویل عرصے تک محسوس کیا گیا۔ لاکھوں افراد کی جانوں کا ضیاع، بے شمار خاندانوں کا تباہ ہونا اور ثقافتی ورثے کا نقصان سوویت یونین کے عوام کے لیے ایک دردناک حقیقت بن گیا۔ اس ظلم کے باوجود، سوویت یونین کی فتح نے ثابت کیا کہ انسانیت کی بے گناہ روحوں کو جب تک ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ ہو، تب تک وہ شکست نہیں کھا سکتی۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل