یوکرینی حملے ظاہر کرتے ہیں، کیف امن نہیں چاہتا، روسی وزارت خارجہ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ یوکرینی افواج کی جانب سے روسی شہری آبادی پر جاری حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کیف حکومت امن یا جنگ بندی جیسے تصورات پر یقین نہیں رکھتی۔ ماریا زاخارووا نے کہا: “یہ بات پوری طرح ثابت ہو چکی ہے کہ جدید یوکرینی ‘بانڈیرا’ کے پیروکار روزانہ کی بنیاد پر معصوم اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ڈرونز جو دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوتے ہیں، انتہائی سرد مہری سے کسی بھی شہری کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے نازی نظریات کی نظر میں آ جائے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کے زیرِ قیادت حکومت کے کارندے عورتوں، بزرگوں اور بچوں پر فائرنگ کر رہے ہیں اور ان کا مقصد رہائشی عمارتوں، دکانوں، اسکولوں، اسپتالوں، اور دیگر سماجی و ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔
سیاسی حل یا جنگ بندی کیف کے ایجنڈے میں شامل نہیں
زاخارووا نے زور دے کر کہا کہ: “تمام شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیف حکومت کے منصوبوں میں جنگ بندی یا سیاسی تصفیہ شامل ہی نہیں ہے۔ زیلنسکی کا نظامِ حکومت خونریزی، دہشت، اور شہری آبادی کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے جنون میں مبتلا ہے۔”
روس کی سرحدی علاقوں پر حملے – مقصد خوف و ہراس پھیلانا
روسی ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی افواج روس کے سرحدی علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ہلاک کیے جا سکیں اور روسی عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ “یہ تمام کوششیں بے کار ثابت ہوں گی۔ ہمارا مورال کبھی نہیں جھکے گا۔ ہم اپنے ان عظیم دادا پردادا کے ورثے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جنہوں نے 80 سال پہلے فاشزم کو شکست دی اور دنیا کو اس لعنت سے نجات دلائی۔”