روس، امریکہ براہ راست پروازوں کی بحالی سے لاعلم ہوں، امریکی وزیرخارجہ
ماسکو : انٹرنیشنل ڈیسک
امریکی سینیٹر اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انہیں روس اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں بحال کرنے کی کسی تجویز کا علم نہیں ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا: “میں نے براہ راست پروازوں کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کون سفر کرے گا، کیونکہ یہ لوگ تو پابندیوں کی زد میں ہیں۔” روبیو کا یہ بیان روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ اور روسی صدر کے خصوصی ایلچی برائے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کیریل دمترییف کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیون وٹکوف کے ساتھ براہ راست پروازوں کے دوبارہ آغاز پر بات کی ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک قدم ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 27 فروری کو استنبول میں روسی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جس میں روسی وفد نے براہ راست پروازوں کی بحالی کی تجویز پیش کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقین نے سفارتی مشنز کی مالی معاونت کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا اور باہمی مکالمے کو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
روس اور امریکہ کے درمیان فضائی روابط 2022 میں یوکرین تنازعے کے بعد معطل ہو گئے تھے، جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور بیشتر تجارتی و سفری تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ روس اعتماد سازی کے اقدامات کی بات کر رہا ہے، تاہم امریکی پالیسی ساز اب بھی اس حوالے سے غیریقینی یا غیر آمادہ نظر آتے ہیں۔