ایران میں ملک گیر احتجاج شدت اختیار کرگیا، 36 افراد ہلاک، ہزاروں گرفتار

Iran Protests Iran Protests

ایران میں ملک گیر احتجاج شدت اختیار کرگیا، 36 افراد ہلاک، ہزاروں گرفتار

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے دوران تشدد کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں کم از کم 36 افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زائد شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ایرانی ادارے کے مطابق یہ مظاہرے ملک کے 27 صوبوں کے 92 شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں کم از کم 285 مختلف مقامات پر احتجاجی اجتماعات ریکارڈ کیے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 34 مظاہرین جبکہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔ اسی دوران 2,076 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں مزدور، طلبہ اور عام شہری شامل بتائے جاتے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب بعض علاقوں میں طبی مراکز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں مزدوروں کی ہڑتالیں، تاجروں کی شٹر ڈاؤن ہڑتال اور طلبہ کے احتجاج بدستور جاری ہیں، جس کے باعث سماجی و معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران میں بڑھتا ہوا احتجاج ایک وسیع تر عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ حکام اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات نے ملک میں سیاسی اور سماجی بے چینی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔