ہومانٹرنیشنلبنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کا ملک میں فوری الیکشن کا مطالبہ

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کا ملک میں فوری الیکشن کا مطالبہ

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کا ملک میں فوری الیکشن کا مطالبہ
ڈھاکہ(صداۓ روس)

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور نیشنل پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا نے ملک میں فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خالدہ ضیا، جو کہ دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں، شیخ حسینہ واجد کی سخت سیاسی حریف سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کرے تاکہ عوام کو ایک جمہوری اور شفاف طریقے سے اپنی قیادت کے انتخاب کا موقع مل سکے۔

خالدہ ضیا اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں، جہاں سے انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو امید ہے کہ عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کر رہے ہیں، جلد بنیادی اصلاحات مکمل کر کے ایک ایسا انتخابی عمل متعارف کرائے گی جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

یہ خطاب خاص طور پر اس لیے اہم تھا کیونکہ خالدہ ضیا نے تقریباً چھ سال کے طویل عرصے کے بعد اپنی جماعت کے کارکنوں سے براہ راست مخاطب ہونے کا موقع حاصل کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ عبوری حکومت کا قیام طلبہ کی تحریک کی بدولت ممکن ہوا، جس نے فاشسٹ حکومت کو اقتدار چھوڑنے اور ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بنگلہ دیش ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی بہتری اور عوامی تحریک کی قیادت کے لیے خود کو تیار کریں۔

اپنے خطاب میں خالدہ ضیا نے کہا کہ بعض عناصر بنگلہ دیش میں جاری تبدیلی کے عمل کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فاشسٹ حکومت کے حمایتی اور ان کے اتحادی ملک میں ہونے والی انقلابی کامیابیوں کو کمزور کرنے کے لیے خفیہ منصوبے بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آپس میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ خالدہ ضیا کا کہنا تھا کہ صرف عوامی اتحاد اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے ذریعے ہی ملک میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں عوام کو ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی خبردار کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ملک میں استحکام اور ترقی کے لیے متحد ہو جائیں۔ ان کے مطابق، فوری عام انتخابات کے انعقاد سے ہی ملک میں ایک مستحکم حکومت قائم ہو سکتی ہے جو عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کر سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاج کے نتیجے میں 16 سال سے برسرِاقتدار شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ عوامی دباؤ اور ملک میں پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے باعث حسینہ واجد کو اپنا اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا اور وہ اس وقت اپنے قریبی اتحادی ملک بھارت میں مقیم ہیں۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی، جس کی قیادت محمد یونس کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت میں آتے ہی سیاسی اصلاحات پر کام شروع کر دیا اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ ان رہائی پانے والے سیاسی قیدیوں میں خالدہ ضیا بھی شامل تھیں، جو رہائی کے بعد علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئی تھیں۔

عبوری حکومت نے ملک میں کئی اصلاحاتی کمیشن قائم کیے ہیں تاکہ بنگلہ دیش کے انتخابی اور انتظامی ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں متعارف کروائی جا سکیں۔ محمد یونس نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ کا تعین سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، عبوری حکومت انتخابات 2025 کے آخر یا 2026 کے آغاز میں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب، عبوری حکومت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی گرفتاری کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ حکومت نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے تاکہ ان پر درج سنگین مقدمات کے تحت کارروائی کی جا سکے۔ ان کے خلاف جاری تحقیقات کے نتیجے میں ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل