خبریں ہوں یا تجزیے — عالمی منظرنامہ، صرف "صدائے روس" پر۔

LN

پرتگالی صدر نے ٹرمپ کو روسی اثاثہ قرار دے دیا

Marcelo Rebelo de Sousa

پرتگالی صدر نے ٹرمپ کو روسی اثاثہ قرار دے دیا

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو رکن ملک پرتگال کے صدر مارسیلو ریبیلو دی سوسا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین تنازع میں غیرجانبدار ثالث بننے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، دراصل ماسکو کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ’’روسی اثاثہ‘‘ کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ کاسٹیلو دی ویدے میں سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی سمر یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر دی سوسا نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے پیش روؤں کی یوکرین کو غیر مشروط حمایت کی پالیسی کو بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق ’’دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کا سربراہ، حقیقتاً ایک روسی اثاثہ کے طور پر کام کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ حقیقی ثالث کم اور ایسا منصف زیادہ ہیں جو صرف ایک فریق کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، جبکہ کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں کو واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں اپنی جگہ بنانی پڑی۔ پرتگالی صدر کے یہ بیانات امریکہ میں 2016 سے چلنے والی ’’رشیا گیٹ‘‘ بحث کی بازگشت سمجھے جا رہے ہیں، جس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کی انتخابی مہم نے روس کے ساتھ ملی بھگت کی۔ تاہم 2019 کی مولر انکوائری اور 2023 کی ڈرہم رپورٹ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر گھڑا گیا بیانیہ تھا۔ صدر ٹرمپ خود ان الزامات کو ’’امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل‘‘ قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ان کی صدارت کو سبوتاژ کرنے اور ماسکو کے خلاف سخت پالیسیوں کو جواز دینے کے لیے تراشا گیا تھا۔ ٹرمپ کے حالیہ مؤقف کے مطابق وہ خود کو یوکرین تنازع میں ایک ’’غیر جانبدار ثالث‘‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تاہم پرتگالی صدر کے نزدیک واشنگٹن کی جانب سے عملی اقدامات کے بجائے صرف زبانی دھمکیوں نے روس کو مزید وقت دیا ہے کہ وہ میدان میں پیش رفت کرے۔

شئیر کریں: ۔