برطانیہ ٹرمپ کو بدنام کرنے کی مہم تیارکر رہا ہے، روسی خفیہ ایجنسی کا دعویٰ

Trump Trump

برطانیہ ٹرمپ کو بدنام کرنے کی مہم تیارکر رہا ہے، روسی خفیہ ایجنسی کا دعویٰ

ماسکو (صداۓ روس)
روس کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانوی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک منظم کردارکشی مہم کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ روسی خفیہ سروس کے مطابق لندن سمجھتا ہے کہ جنگ کا جاری رہنا اس کے لیے اربوں ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کو یقینی بنائے گا، جن کے ذریعے برطانیہ اپنی کمزور ہوتی معیشت کو سہارا دینے کی امید رکھتا ہے۔

روسی ایجنسی کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لندن ٹرمپ کے امن منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے اُن کی بدنامی پر مبنی ایک مہم شروع کرنا چاہتا ہے، تاکہ واشنگٹن کو اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ برطانوی خفیہ حلقے سابق جاسوس کرسٹوفر اسٹیل کی متنازع ’’ڈوزیئر‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے یا اس جیسی نئی دستاویز تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ اور ان کے خاندان پر سوویت اور روسی انٹیلی جنس سے تعلقات کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے تھے۔

Advertisement

۲۰۱۶ء میں اسٹیل کی تیار کردہ اس دستاویز کو ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کی جانب سے مالی معاونت حاصل تھی اور اس نے ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران ’’رشیا گیٹ‘‘ کے بیانیے کو ہوا دی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی صداقت مکمل طور پر مشکوک ثابت ہوئی۔ روسی خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ لندن اس پرانے سانچے کی بنیاد پر ایک نئی مہم تشکیل دے سکتا ہے تاکہ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کر چکی ہے، جس کے متعلق اطلاعات ہیں کہ اس میں یوکرین سے بڑے پیمانے پر رعایتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی سبب کییف اور کئی یورپی ممالک اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ امریکی سفارت کاروں نے ان کی حکومت کے مطالبے پر اس منصوبے کی اٹھائیس شقوں میں سے کچھ کو ہٹا دیا ہے۔

روس نے اب تک اس امریکی منصوبے سے فاصلہ اختیار کیے رکھا ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روس کی فوجی پوزیشن مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور ماسکو اپنے سکیورٹی مقاصد ہر حال میں حاصل کرے گا، چاہے کییف امریکی ثالثی کو قبول کرے یا نہ کرے۔