پاک – روس بین الحکومتی کمیشن کے 10ویں اجلاس میں اہم معاہدوں پر دستخط
اسلام آباد (اشتیاق ہمدانی)
پاکستان اور روس کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اس وقت اٹھایا گیا جب اسلام آباد میں 25 سے 27 نومبر 2025 تک پاکستان۔روس بین الحکومتی کمیشن کے 10ویں اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور روسی فیڈریشن کے وزیر توانائی سرگئی سیویلیوف نے کی۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے اس اجلاس میں شرکت کی، جس کا مقصد دوطرفہ معاشی، سائنسی، تکنیکی اور سماجی تعاون کا مزید فروغ تھا۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان وسیع اور دور اندیش شراکت داری نہ صرف باہمی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے گی بلکہ خطے میں استحکام، رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے لیے بھی نئی راہیں کھولے گی۔ وفود نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا۔
اجلاس میں سب سے زیادہ زور تجارت کے فروغ اور جدید لاجسٹک رابطوں کے قیام پر دیا گیا۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت بڑھانے، پاکستانی مصنوعات کی روسی منڈی تک رسائی بہتر بنانے، اور کاروباری برادری کے درمیان براہ راست رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ٹیکسٹائل، سپورٹس مصنوعات، انجینئرنگ آئٹمز، زرعی اجناس اور آئی ٹی سروسز کو خاص طور پر نمایاں شعبے قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے متفقہ تجارتی راستوں پر پائلٹ کارگو سروسز شروع کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ آئندہ ایک پائلٹ ٹرین چلانے کی بھی تصدیق کی گئی، جس سے خطے میں زمینی رابطہ کاری بہتر ہو گی۔
توانائی کا شعبہ اجلاس کی مرکزی توجہ کا مرکز رہا۔ پاکستان اور روس نے تیل و گیس کے شعبے میں مثبت پیش رفت، ایل این جی اور ایل پی جی کے فریم ورک پر تعاون، اور تکنیکی تبادلوں کے امکانات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ قابلِ تجدید توانائی، پن بجلی کے منصوبوں، آبی ذخائر کی نگرانی، اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز پر بھی بات چیت کی گئی۔
صنعتی شعبوں میں فارماسیوٹیکل تعاون، انسولین کی مقامی پیداوار، پاکستان اسٹیل ملز کی جدید کاری، بھاری مشینری، کان کنی اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
تعلیم اور سائنس کے میدان میں بھی دونوں ممالک نے باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بین الحکومتی معاہدے، ڈگریوں کے باہمی اعتراف، مشترکہ تحقیقاتی منصوبے، اور انجینئرنگ، طب، آئی ٹی اور خلائی ٹیکنالوجی میں تعلیمی تبادلوں کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔ اس موقع پر اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلبہ I-8 میں روسی زبان کے مرکز میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں روسی زبان کی تدریس کے فروغ کو سراہا گیا۔
ثقافتی اور عوامی سفارتکاری کے میدان میں بھی پیش رفت جاری رہی۔ روسی وفد نے 2005 کے زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان انسانی ہمدردی کا تعلق مزید مضبوط ہوا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (PNCA) میں روسی فنکاروں نے شاندار ثقافتی شو پیش کیا۔ پاکستان نے اسلام آباد میں یوری گاگارین کے مجسمے کی تنصیب پر روس کا شکریہ ادا کیا، جس کا باضابطہ افتتاح آج وزیر سرگئی سیویلیوف کریں گے۔
این ڈی ایم اے پاکستان اور روسی وزارت ہنگامی حالات کے درمیان ابتدائی وارننگ سسٹمز، ریسکیو ٹریننگ اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ کھیل، سیاحت، میڈیا اور ثقافتی روابط کے فروغ پر بھی خصوصی بات چیت ہوئی۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے 10ویں کمیشن کا باضابطہ پروٹوکول دستخط کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تین اہم مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے:
پاکستان کی ایسوسی ایٹڈ پریس اور روس کی SPUTNIK نیوز ایجنسی کے درمیان میڈیا تعاون کا معاہدہ؛
پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور روس کے فیڈرل ایجنسی فار ٹیکنیکل ریگولیشن اینڈ میٹرولوجی کے درمیان معیار اور میٹرولوجی کے شعبے میں تعاون؛
پاکستان کی مسابقتی کمیشن اور روس کی فیڈرل اینٹی مونوپولی سروس کے درمیان مقابلہ جاتی قوانین اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کا معاہدہ۔
دونوں ممالک نے اس پر اتفاق کیا کہ بین الحکومتی کمیشن کا اگلا اجلاس 2026 میں روس میں منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس کے کو چیئرز نے 10ویں سیشن کے نتائج پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات اعتماد، باہمی احترام اور طویل المدتی تعاون کی بنیاد پر مزید مضبوط ہوں گے۔