ماسکو میں روسی صدر پوتن اور ہنگری کے وزیراعظم اوربان کے درمیان ملاقات
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر صدر پوتن اور ہنگری کے وزیراعظم وِکٹور اوربان کے درمیان ماسکو میں اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ مذاکرات میں توانائی تعاون، باہمی تجارت، یوکرین تنازع اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ روسی وفد میں وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، نائب وزیراعظم الیکساندر نوواک اور صدارتی مشیر یوری اُشاکوف شامل تھے، جبکہ ہنگری کی طرف سے وزیر خارجہ و تجارت پیٹر سییارتو، وزیر تعمیرات و ٹرانسپورٹ یانوش لازار اور وزیراعظم کے چیف نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مارسیل بیرو شریک ہوئے۔ ابتدائی کلمات میں صدر پوتن نے اوربان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ چیلنجز کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور عملی بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پابندیوں کے باعث گزشتہ برس دو طرفہ تجارت میں 23 فیصد کمی آئی، تاہم رواں سال اب تک 7 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ پوتن کے مطابق روس اور ہنگری کے درمیان توانائی تعاون شراکت داری کی بنیاد ہے اور اس شعبے کے متعدد حساس معاملات پر مزید گفتگو ضروری ہے۔ انہوں نے اوربان کی یوکرین تنازع پر ’’متوازن پالیسی‘‘ کی تعریف بھی کی۔
اوربان، روس کے ساتھ تعاون ہماری خودمختار خارجہ پالیسی کا حصہ ہے. ہنگری کے وزیراعظم وِکٹور اوربان نے کہا کہ ان کی حکومت ہمیشہ ایک ’’خودمختار خارجہ پالیسی‘‘ پر گامزن رہی ہے اور شدید بیرونی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ اہم شعبوں میں تعاون ترک نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہنگری کی توانائی سلامتی کا انحصار روسی توانائی سپلائی پر ہے، جس کی مستقل مزاجی اور قابلِ اعتماد ہونا ہنگری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اوربان نے کہا کہ یوکرین چونکہ ہنگری کا ہمسایہ ہے، اس لیے جنگ کے معاشی اثرات ان کے ملک پر بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگری امن کا خواہاں ہے اور کسی ممکنہ امن مذاکرات کے لیے میزبان کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
ملاقات کے اختتام پر پوتن نے انکشاف کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے ساتھ ہونے والی ممکنہ ملاقات کے لیے بوداپیسٹ کو میزبان شہر کے طور پر تجویز کیا ہے۔ پوتن نے کہا کہ اگر مذاکرات کے دوران ایسا موقع آیا تو وہ ہنگری کی اس پیشکش کو خوشی سے قبول کریں گے۔