امریکہ کی ممکنہ کارروائی: وینیزویلا کی فضائیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد ملکی فضائیہ کو ہر حال میں ’’تیار اور مستعد‘‘ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن خطے میں زمینی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے، جس پر کاراکاس نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں بحری جہاز کیریبیئن خطے میں تعینات کیے ہیں جبکہ وینیزویلا کی چھوٹی کشتیوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ انہیں منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب وینیزویلا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غیرقانونی ہیں۔ واشنگٹن طویل عرصے سے مادورو حکومت پر منشیات سے منسلک کارٹل کی سرپرستی کا الزام لگاتا آ رہا ہے اور اشارہ دے چکا ہے کہ براہِ راست عسکری کارروائی ممکن ہے، تاہم مادورو ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جمعرات کے روز اپنے خطاب میں مادورو نے کہا کہ اگر وینیزویلا کو ’’ریپبلک ان آرمز‘‘ بننے پر مجبور کیا گیا تو وہ کامیاب ہو گا، اور ملکی فضائیہ کے اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ ’’ہمیشہ پرسکون، چوکس، تیار اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم‘‘ رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 82 فیصد آبادی ہتھیار اٹھا کر وینیزویلا کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں صدر ٹرمپ نے ٹیکساس کے ڈائیس ایئر فورس بیس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ جلد وینیزویلا کی مبینہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف زمینی کارروائیاں شروع کرے گا، اگرچہ انہوں نے اس کے وقت یا پیمانے کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات سے سمندری راستے سے منشیات کی ترسیل میں 85 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ اسمگلر ’’امریکیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘‘۔ اسی روز وینیزویلا نے چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کے آپریشنز کے حقوق منسوخ کر دیے، جنہوں نے امریکی انتباہ کے بعد اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایبریا، ٹی اے پی، ایویانکا، لٹام، ترکیش ایئرلائنز اور گول نے ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ پر مبنی امریکی مؤقف کی پیروی کرتے ہوئے پروازیں بند کیں۔ یہ ایئرلائنز امریکی ایف اے اے کی اس وارننگ کے بعد خدمات معطل کر چکی تھیں جس میں وینیزویلا کی فضائی حدود کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم کاراکاس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ادارے کو وینیزویلا کے فضائی معاملات میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔