روسی صدر کی رہائش گاہ پر حملہ: روس نے امریکہ کو “ثبوت” سپرد کر دیے
ماسکو (صداۓ روس)
روسی فوج کے ایک سینئر افسر نے جمعرات کو ماسکو میں امریکی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی کو وہ مواد سپرد کیا جو ان کے دعوے کے مطابق یوکرینی ڈرون کا حصہ ہے اور اس میں موجود ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ یوکرینی فوج نے اس ہفتے روسی صدارتی رہائشگاہ کو نشانہ بنایا تھا۔ ماسکو نے پیر کو کیئف پر الزام لگایا تھا کہ اس نے روسی شمالی نووگوروڈ علاقے میں صدر ولادیمیر پوتن کی ایک رہائشگاہ پر 91 لانگ رینج اٹیک ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ روس نے کہا کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔ روسی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق: “29 دسمبر 2025 کی رات نووگوروڈ علاقے کے اوپر روسی ایئر ڈیفنس سسٹمز کی کارروائی سے تباہ ہونے والے یوکرینی یو اے وی کا کنٹرولر اور ڈیکوڈڈ روٹ ڈیٹا والا مواد روسی صدر کی رہائشگاہ پر دہشت گردانہ حملے کے دوران ماسکو میں امریکی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی کے نمائندے کو سپرد کر دیا گیا۔” یہ اقدام روسی دعوؤں کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یوکرین نے صدارتی رہائشگاہ کو براہ راست نشانہ بنایا تھا۔