ایران میں احتجاج : اسرائیلی فوج کو تمام محاذوں پر جنگ کی تیاری کا حکم
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کو ایران، لبنان اور مغربی کنارے کے خلاف بیک وقت ممکنہ جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل بارہ کے مطابق ان منصوبوں میں تہران کے خلاف ایک ’’دھماکہ خیز آپریشن‘‘ کا امکان بھی شامل ہے، جبکہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران کے باعث ملک گیر احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جنہیں اسرائیلی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تیاری چار سالہ طویل المدتی عسکری منصوبے کا حصہ ہے، جس کی قیادت آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر کر رہے ہیں۔ جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ خلا سے سیٹلائٹس اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیتیں بڑھانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ایران، حکومت کو درپیش احتجاجی دباؤ کے تحت اپنے نظام کے ممکنہ انہدام کو روکنے کے لیے اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ چینل بارہ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیل ایران میں جاری بدامنی پر سرکاری سطح پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، تاکہ کسی ممکنہ فوجی ردعمل سے بچا جا سکے۔ تاہم اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے سوشل میڈیا پر کھل کر ایرانی مظاہروں کی حمایت کی ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے ایجنٹس ان مظاہروں میں موجود ہیں۔ ایران میں یہ احتجاج دسمبر کے آخر میں مہنگائی اور شدید معاشی بحران کے خلاف شروع ہوئے، جو جلد ہی مختلف شہروں تک پھیل گئے۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ کچھ مظاہرین نے انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب سے قبل کی بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں فوجی مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’’پرامن مظاہرین‘‘ کو قتل کیا گیا تو امریکا کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ’’ہر طرح سے تیار‘‘ ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دورۂ فلوریڈا کے دوران ٹرمپ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں اضافے کی صورت میں نئے فضائی حملوں کی حمایت کا عندیہ بھی دیا تھا۔ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جن کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ اس سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا گیا۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے حملوں کو بلاجواز جارحیت قرار دیا تھا۔