نیویارک کے میئر نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو ’’جنگی اقدام‘‘ قرار دے دیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو ایک خودمختار ریاست کے خلاف جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ امریکی وفاقی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیویارک کے میئر کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ جنگ کے مترادف ہوتا ہے اور اس کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں بنتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے فیصلوں کے براہِ راست اثرات نیویارک کے شہریوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں، جن میں ہزاروں وینزویلا نژاد افراد شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان کی اولین ترجیح نیویارک کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 جنوری کو اعلان کیا کہ وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی کا مقصد صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنا تھا۔ ٹرمپ نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پر امریکی شہریوں کے خلاف ’’نارکو دہشت گردی‘‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی عدالتوں میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب فوجی حملہ کیا، جس کے دوران نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ امریکی صدر کے مطابق پہلے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا گیا اور بعد ازاں ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ روس نے وینزویلا کے عوام اور قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس فوجی اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ بعد ازاں روس کے مستقل مندوب برائے تنظیم برائے سلامتی و تعاونِ یورپ دمتری پولیاناسکی نے اعلان کیا کہ وینزویلا کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس 5 جنوری کو منعقد ہوگا، جس میں تازہ بحران پر غور کیا جائے گا۔