نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیو یارک میں قید کردیا گیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکا منتقل کرنے کے بعد نیویارک شہر کے جنوبی علاقے بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے جانے والا طیارہ 3 جنوری کو مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے ریاست نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر اترا، جہاں سے دونوں کو پہلے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے حوالے کیا گیا اور بعد ازاں بروکلین کی حراستی جیل منتقل کر دیا گیا۔ این بی سی نیوز کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پیر کے روز نیویارک کی عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے 3 جنوری کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے دارالحکومت کاراکاس میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو کھلی فوجی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ وینزویلا کی حکومت کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی وینزویلا پر امریکی حملے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ یہ پیش رفت خطے میں شدید کشیدگی اور عالمی سطح پر سخت ردِعمل کا باعث بنی ہے، جبکہ روس سمیت متعدد ممالک نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔