برطانیہ کا وینزویلا میں مادورو حکومت گرانے کی امریکی کارروائی سے لاتعلقی کا اعلان

Keir Starmer Keir Starmer

برطانیہ کا وینزویلا میں مادورو حکومت گرانے کی امریکی کارروائی سے لاتعلقی کا اعلان

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں برطانیہ کسی بھی طور پر شامل نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بات برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہی۔ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے حقائق جاننا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے بات کریں گے۔ ان کے مطابق وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھا۔ برطانوی وزیر اعظم نے زور دیا کہ ان کے نزدیک تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وینزویلا میں اس وقت تقریباً 500 برطانوی شہری موجود ہیں اور برطانوی حکومت سفارت خانے کے ذریعے ان کی نگرانی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، تاکہ انہیں ضروری رہنمائی اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ 3 جنوری کو وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے دارالحکومت کاراکاس میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے انہوں نے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا۔ وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے اور ان کے بقول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔