رپورٹ:
الینا ایوانووا-
ترجمہ:
اشتیاق ہمدانی-
نئے سال کی رات یوکرینی مسلح افواج کے ڈرونز نے خرسون کے علاقے میں واقع قصبے خورلی میں ایک کیفے اور ہوٹل کو نشانہ بنایا۔ اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 24 بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، جن میں ایک معصوم بچہ بھی شامل تھا، جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہو کر اسپتال منتقل کیے گئے۔ یہ واقعہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی کی مثال تھا۔
خرسون کے گورنر ولادیمیر سالدو نے اس سانحے کو اپنی نوعیت کا سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اوڈیسا کے ہاؤس آف ٹریڈ یونینز کے المیے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے ایک ڈرون میں آتش گیر مواد تھا، وہی مواد جس کے ذریعے ماضی میں یوکرینی جنگجوؤں نے کھیتوں کو آگ لگائی، اور اب جان بوجھ کر انسانوں کو زندہ جلایا گیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی سرکاری ترجمان ماریا زاخارووا نے خورلی کے سانحے کا موازنہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران مغربی یوکرین میں نازی جرائم سے کرتے ہوئے کہا کہ 82 برس قبل قاتل کم از کم جمہوریت کے نام پر پردہ تو نہیں ڈالتے تھے۔ ان کے بقول آج یورپی رہنماؤں کی میزوں پر یہ رپورٹیں آنی چاہئیں کہ ان کے ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر اور یورو کس طرح بچوں اور عام شہریوں کے قتل پر خرچ ہو رہے ہیں۔ زاخارووا نے کھلے الفاظ میں یوکرین کی مالی و عسکری مدد کرنے والوں کو بچوں کے قتل اور شہری آبادی کی تباہی کا شریکِ جرم قرار دیا۔
یہ اجتماعی قتل ایسے وقت میں ہوا جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی امن معاہدے کے قریب ہونے کے دعوے کر رہے تھے۔ نئے سال کے خطاب میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ 90 فیصد تیار ہے، مگر اسی دوران یورپی سرپرستوں کی خاموش رضامندی سے عام شہریوں پر حملے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ امن کے بیانات محض سیاسی دھوکا ہیں۔
دونیتسک پیپلز ریپبلک کے سربراہ کے مشیر یان گاگن کے مطابق یوکرینی ریاست ایک دہشت گرد ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہے، جو داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ خود کو مہذب ریاست کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈونیٹسک اور دیگر فرنٹ لائن شہروں میں ممنوعہ کلسٹر بارودی سرنگیں ’’پتی‘‘ استعمال کی گئیں، جو براہِ راست عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
روسی دفاعی اداروں کے مطابق یہ حملے کسی اچانک ردِعمل کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ نئے سال کی رات روسی فضائی دفاع نے 168 جنگی ڈرون مار گرائے، جبکہ چھ روسی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ماسکو پر بھی درجنوں ڈرونز کا رخ تھا۔ اس پس منظر میں زیلنسکی کے وہ بیانات مضحکہ خیز اور منافقانہ دکھائی دیتے ہیں جن میں انہوں نے صدارتی رہائش گاہ پر حملے کی تردید کی۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرینی ڈرونز سے حاصل ہونے والے فلائٹ ڈیٹا نے واضح کیا کہ 29 دسمبر 2025 کو ان کا ہدف نوگوروڈ کے علاقے میں روسی صدر کی رہائش گاہ کا ایک حصہ تھا۔ یہ شواہد امریکی حکام کو بھی فراہم کیے جائیں گے۔
حالات واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ کیف حکومت اپنی روایتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے: محاذ پر ممکنہ شکست کے سائے میں پس پردہ علاقوں پر حملے۔ جرمن سیاست دان فریڈرک میرز، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور دیگر یورپی سرپرستوں کی حمایت کے باوجود یوکرینی فاشزم یہ جانتا ہے کہ اس کا انجام قریب ہے۔ اسی لیے وہ جاتے جاتے زیادہ سے زیادہ روسی شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنا چاہتا ہے۔
یہ سب کچھ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یورپ کو یوکرینی تنازع کے حقیقی خاتمے میں دلچسپی نہیں، کیونکہ جنگ کا جاری رہنا سیاسی، معاشی اور تزویراتی مفادات کو پورا کرتا ہے۔ عام شہریوں کی جانیں اس کھیل میں محض اعداد و شمار بن کر رہ گئی ہیں۔