وینزویلا پر امریکی کارروائی ناقابلِ قبول حد عبور کرگئی، برازیل کا سخت ردعمل

Luiz Inacio Lula da Silva Luiz Inacio Lula da Silva

وینزویلا پر امریکی کارروائی ناقابلِ قبول حد عبور کرگئی، برازیل کا سخت ردعمل

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ برازیلی صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام ایک ایسی حد عبور کر چکا ہے جو نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکا کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ صدر لولا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بمباری اور ایک خودمختار ملک کے صدر کو گرفتار کرنا وینزویلا کی خودمختاری پر “سنگین حملہ” ہے اور یہ عالمی برادری کے لیے ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام لاطینی امریکا اور کیریبین میں ماضی کی بدنام زمانہ بیرونی مداخلتوں کی یاد دلاتا ہے اور خطے کو امن کا زون بنائے رکھنے کی کوششوں کے منافی ہے۔ برازیلی صدر نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال پر مضبوط اور مؤثر ردعمل دے۔ ادھر برازیلی حکومت نے ہنگامی کابینہ اجلاس طلب کیا جس میں دو فوری امور پر توجہ مرکوز کی گئی: برازیل اور وینزویلا کی طویل سرحد کی صورتحال اور وینزویلا میں موجود برازیلی شہریوں کی سلامتی۔

برازیل کے موقف کی تائید کرتے ہوئے دیگر برکس ممالک نے بھی امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اسے “مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے مزید کشیدگی سے خبردار کیا، جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے واقعات پر “گہرے صدمے” کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سے دوسرے ممالک کی خودمختاری پامال کرنا بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ امریکی اسپیشل فورسز نے ہفتے کی صبح وینزویلا پر فضائی حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مادورو ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ واشنگٹن کا اصل مقصد حکومت کی تبدیلی اور وینزویلا کے قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا عبوری طور پر وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا اور تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرے گا، جبکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں مزید بڑے حملے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

Advertisement