مادورو کو اغوا کرنے کی امریکی کارروائی میں وینزویلا اور کیوبا کے 55 فوجی ہلاک

Nicolas Maduro Nicolas Maduro

مادورو کو اغوا کرنے کی امریکی کارروائی میں وینزویلا اور کیوبا کے 55 فوجی ہلاک

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کی امریکی فوجی کارروائی میں وینزویلا اور کیوبا کے کل 55 فوجی ہلاک ہو گئے۔ لاطینی امریکہ کے اتحادی ممالک کیوبا اور وینزویلا نے منگل کو گزشتہ ہفتے ہونے والے امریکی حملے میں جانی نقصان کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں صدر مادورو کی رہائش گاہ پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اہلکار اتارے تھے۔ امریکی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح 4 بج کر 21 منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا تھا کہ ان کی افواج نے ایک “جرات مندانہ مشن” کے ذریعے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ لیا ہے۔
اس ابتدائی پوسٹ کے تقریباً سات گھنٹے بعد ٹرمپ نے مادورو کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ ٹریک سوٹ پہنے، آنکھوں پر پٹی باندھے اور ہاتھوں میں پانی کی بوتل پکڑے کھڑے نظر آ رہے تھے۔

کیوبا کی حکومت نے کاراکس میں اس رات ہلاک ہونے والے اپنے 32 اہلکاروں کے نام جاری کیے، جبکہ وینزویلا کی فوج نے امریکی کارروائی میں مارے جانے والے اپنے 23 اہلکاروں کی فہرست شائع کی۔ روئٹرز کے مطابق پینٹاگون نے کارروائی سے قبل کریبیئن میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی تھی، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، 11 جنگی جہاز، درجنوں ایف۔35 لڑاکا طیارے اور مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد فوجی شامل تھے۔ کارروائی کے آغاز میں امریکی طیاروں نے کاراکس اور اس کے قریب ممکنہ رکاوٹ بننے والے اہداف اور فضائی دفاعی نظام پر حملے کیے۔ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی طیاروں کی تعداد “بہت زیادہ” تھی۔ انہوں نے کہا: “ہمارے پاس ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک لڑاکا طیارہ موجود تھا۔”
ان حملوں سے ہونے والے دھماکوں کی آوازیں سن کر کاراکس کے رہائشی خوفزدہ ہو گئے۔ ایک مقامی صحافی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انہیں ایسا لگا جیسے ان کا گھر گر جائے گا۔ یہ کارروائی عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے اور متعدد ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ لاطینی امریکہ میں علاقائی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

Advertisement