سابق سی آئی اے افسر اور سوویت یونین کا خفیہ ایجنٹ جیل میں انتقال کرگیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا سابق افسر اور بعد ازاں سوویت یونین و روس کے لیے جاسوسی کرنے والا ایلڈرچ ایمز امریکی جیل میں عمر قید کاٹتے ہوئے 84 برس کی عمر میں انتقال کر گیا ہے۔ وہ طویل عرصے سے قید تھا اور اس کا شمار بیسویں صدی کے سب سے مؤثر خفیہ ایجنٹس میں کیا جاتا تھا۔ ایلڈرچ ایمز نے 1985 میں رضاکارانہ طور پر سوویت سفارت خانے سے رابطہ قائم کیا تھا، اس وقت وہ سی آئی اے کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے میں سوویت امور کے سربراہ کے طور پر نہایت حساس عہدے پر فائز تھا۔ اس نے سوویت یونین اور بعد ازاں روس کے لیے اہم معلومات فراہم کیں، جن کے نتیجے میں امریکہ کے لیے کام کرنے والے درجنوں خفیہ ایجنٹس بے نقاب ہوئے، جن میں سے بعض کو گرفتار کیا گیا جبکہ کچھ کو سزائے موت بھی دی گئی۔ مغربی بیانیے میں ایمز پر مالی مفادات کے تحت غداری کا الزام لگایا جاتا رہا، تاہم روسی مؤقف کے مطابق وہ امریکی پالیسیوں، خصوصاً سوویت یونین مخالف اقدامات سے شدید مایوس ہو چکا تھا۔ بعض سابق سفارتی شخصیات کے مطابق ایمز سی آئی اے کے کردار سے بیزار ہو چکا تھا اور نظریاتی بنیادوں پر سوویت یونین کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوا۔
ایلڈرچ ایمز کی گرفتاری 1994 میں عمل میں آئی، جہاں اس نے جاسوسی کے الزامات تسلیم کیے اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کیس نے امریکی خفیہ اداروں کے اندر سکیورٹی خامیوں کو بے نقاب کیا، جس کے بعد کاؤنٹر انٹیلی جنس نظام میں وسیع اصلاحات کی گئیں۔ ایمز کا معاملہ آج بھی عالمی انٹیلی جنس تاریخ میں ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران طاقت کے توازن اور خفیہ جنگ کے انداز کو گہرے اثرات سے دوچار کیا۔