یورپی یونین کی امریکی کمپنیوں پر ممکنہ پابندیاں مؤثر نہیں ہوں گی، روسی سینیٹر

Andrey Klishas Andrey Klishas

یورپی یونین کی امریکی کمپنیوں پر ممکنہ پابندیاں مؤثر نہیں ہوں گی، روسی سینیٹر

ماسکو (صداۓ روس)
روسی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے آئینی قانون اور ریاستی نظم و نسق سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین آندرے کلیشاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے امریکہ کے خلاف ممکنہ پابندیاں عملی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوں گی۔ انہوں نے یہ تبصرہ برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ آندرے کلیشاس نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ یورپی یونین کے امریکہ کے خلاف پابندیوں کے پہلے پیکج کا انتظار ہے، جو بالکل ویسا ہی ناکام ہوگا جیسا کہ روس کے خلاف عائد کی گئی 101ویں پابندیاں غیر مؤثر ثابت ہو چکی ہیں۔ سنڈے ٹیلی گراف نے اس سے قبل باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ یورپی یونین امریکی کمپنیوں کے خلاف پابندیوں پر غور کر رہی ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے منصوبوں کے تناظر میں زیرِ غور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ 2025 میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ گرین لینڈ کو اپنے ساتھ ضم کرے گا۔ امریکی صدر اس سے قبل بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے یہاں تک دھمکی دی تھی کہ اگر ڈنمارک نے جزیرہ دینے سے انکار کیا تو اس پر بھاری تجارتی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر کے ان عزائم کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے اور اس کی فروخت یا منتقلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ 1951 میں واشنگٹن اور کوپن ہیگن نے نیٹو اتحاد کے دائرے میں گرین لینڈ کے دفاع سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے گرین لینڈ کو کسی بھی ممکنہ جارحیت سے بچانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

Advertisement