فرانس میں حکومت کے خلاف احتجاج، دو ہزار ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور

Hospital Hospital

فرانس میں حکومت کے خلاف احتجاج، دو ہزار ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس میں حکومت کی صحت عامہ سے متعلق پالیسیوں کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں تقریباً دو ہزار نجی شعبے سے وابستہ ڈاکٹر احتجاجاً عارضی طور پر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ فرانسیسی اخبار لے فیگارو نے 11 جنوری کو اس پیش رفت کی اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے ان اقدامات پر احتجاج کر رہے ہیں، جن کے تحت ہیلتھ انشورنس فنڈ کے سربراہ کو طبی خدمات کے نرخ یکطرفہ طور پر مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ معترض ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام آزاد طبّی نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔ ٹریڈ یونین لے بلاک کے صدر فلیپ کوک نے کہا ہے کہ ڈاکٹر چاہتے ہیں کہ حکومت آزاد طبّی نظام کو نشانہ بنانا بند کرے۔ ان کے مطابق تقریباً 20 بسوں پر مشتمل قافلہ پیرس سے برسلز روانہ ہو چکا ہے، جہاں ڈاکٹر تین روزہ علامتی قیام کے دوران فرانسیسی وزیرِاعظم سباستیان لیکورنو کے لیے تجاویز تیار کریں گے۔

احتجاجی ڈاکٹرز کا الزام ہے کہ حکومت کا رویہ بتدریج آمرانہ شکل اختیار کر رہا ہے، جو ان کے پیشہ ورانہ آزادی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس میں حکومت مخالف احتجاجات کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 14 دسمبر 2025 کو فرانسیسی ریڈیو اسٹیشن ici نے رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 100 کسانوں اور مویشی پالنے والوں نے سابق وزیرِ زراعت اینی جینیوار کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے ایک درخت سے بچھڑے کی لاش لٹکا کر اس پر بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا:
“ہمارے جانور، ہماری زندگیاں” یہ احتجاج مویشیوں میں جلدی بیماری کے خلاف حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا حصہ تھا۔

Advertisement