شوئیگو کی ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی مذمت

Russian Security Council Secretary Sergey Shoigu Russian Security Council Secretary Sergey Shoigu

شوئیگو کی ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی مذمت

ماسکو (صداۓ روس)
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر آمادگی کا اظہار
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے ایران کے داخلی معاملات میں دیگر ممالک کی جانب سے مداخلت کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ بات ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ روسی سلامتی کونسل کے پریس سروس کے مطابق سرگئی شوئیگو نے حالیہ واقعات میں جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ بیرونی قوتوں کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں ایک بار پھر مداخلت کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ بیان کے مطابق شوئیگو نے ان اقدامات کو اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی امور میں براہِ راست دخل اندازی قرار دیا۔ گفتگو کے دوران روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو روس اور ایران کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کی بنیاد پر دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل اسی روز ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دیگر ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ ایران میں جاری عوامی مظاہروں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مظاہرے غیر ملکی عناصر کی جانب سے بھڑکائے اور منظم کیے گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز ذمہ دار عناصر کو تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائی کریں گی۔ ان حالات کے تناظر میں ایران کی وزارتِ خارجہ نے جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے سفیروں کو طلب کیا اور ان ممالک سے مظاہرین کی حمایت میں دیے گئے سرکاری بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ۵۳۸ ہو گئی ہے، جن میں ۴۹۰ مظاہرین اور ۴۸ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ دس ہزار چھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف اپنے مؤقف کا اظہار کریں، ان کا کہنا تھا کہ اشتعال پھیلانے والے عناصر پورے معاشرے کو تباہ کر سکتے ہیں۔

Advertisement