
اشتیاق ہمدانی
دنیا کی سیاست میں بعض ریاستیں طاقت کے زور سے جیتی ہیں، بعض سفارت کے ذریعے، اور بعض خاموشی کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں۔ مگر بہت کم ممالک ایسے ہیں جو دباؤ کے مقابلے میں اپنے مؤقف کی قیمت ادا کر کے خود کو ثابت کرتے ہیں۔ ایران انہی کم ریاستوں میں سے ایک ہے۔ ایران کی موجودہ کیفیت کو صرف احتجاج، داخلی بےچینی یا حکومتی سختی کے خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس ملک پر ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے سیاسی حافظے، تاریخی تجربے اور جغرافیائی تنازعے کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔ اور اگر ان سب کا رس چھوڑ کر صرف ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہی کافی ہوگا کہ: ایران — ٹوٹا نہیں، جھکا نہیں، اور فراموش نہیں کیا جائے گا۔ یہ جملہ جذباتی ضرور لگتا ہے، مگر اس کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ تجربہ، برداشت اور مسلسل مزاحمت پر قائم ہے۔ چار دہائیوں سے ایران مختلف شکلوں میں دباؤ کا سامنا کر رہا ہے: پابندیاں، تنہائی، سفارتی محاصرہ، پراکسی تنازعے، میڈیا جنگ، سائبر حملے اور نرم تبدیلی کے منصوبے۔ ان میں سے کوئی بھی ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکا۔ یہاں دلچسپ بات یہ نہیں کہ ایران ڈٹا رہا بلکہ یہ کہ اس نے راستہ تبدیل نہیں کیا۔ زیادہ تر ریاستیں ایسے دباؤ میں یا بیانیہ بدلتی ہیں، یا پالیسی بدلتی ہیں، یا قیمت سے بھاگتی ہیں، مگر ایران نے ان تینوں سے انکار کیا۔ اس نے قیمت قبول کی مگر راستہ برقرار رکھا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ایران کا کردار باقی مسلم دنیا سے الگ دکھائی دیتا ہے۔ کم از کم اعصاب اور پالیسی کے میدان میں۔ غزہ اور فلسطین کے معاملے میں بھی ایران کا کردار کاغذی نہیں بلکہ عملی اور عسکری رہا۔ اسرائیل کے ساتھ طاقت کے کھیل میں ایران نے صرف مزاحمتی نعرہ نہیں دیا بلکہ war deterrence پیدا کیا، اور یہی وہ نقطہ ہے جس نے پہلی بار اسرائیل کو یہ احساس دلایا کہ محاصرہ صرف ایک طرف نہیں رہا۔ اس دوران عرب دنیا کے دارالحکمتوں میں منظر مختلف تھا، جہاں تعلقات، توازن اور مفاہمت نے فلسطین کے سوال کو جذبات سے نکال کر تکنیک اور تجارت کے خانوں میں رکھا۔ ایران نے اس بیانیے میں خاموشی کی جگہ دباؤ اور deterrence کو ترجیح دی، اور یہی فرق تاریخ نوٹ کرتی ہے۔
اسی تسلسل میں ایران کو ایک اور محاذ بھی سنبھالنا پڑ رہا ہے — سوشل میڈیا کا محاذ۔ ایران اس وقت صرف اقتصادی پابندیوں، جنگی دباؤ، اندرونی غداروں اور بیرونی دشمن ریاستوں کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ اسے ایک مکمل میڈیا وار کا بھی سامنا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں ریاستیں اپنی زمین نہیں بلکہ اپنی شناخت اور اپنا بیانیہ بچاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں بہت سی تصاویر اور کلپس کو یہ دعویٰ کے ساتھ پھیلایا گیا کہ “ایرانی لڑکیاں مذہبی اتھارٹی کے خلاف تصاویر جلا رہی ہیں”، مگر ان میں سے کئی تصاویر حقیقت میں ایران کی نہیں تھیں بلکہ گزشتہ سال غزہ — اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کی نوجوان لڑکیوں کی تھیں جنہیں بعد میں ایران کے عنوان سے reuse کیا گیا۔ یہ وہ تکنیک ہے جس میں تصویر اصل ہوتی ہے مگر سیاق، ملک اور کردار بدل دیا جاتا ہے تاکہ ایک خاص تاثر پیدا کیا جا سکے۔ یہ معاملہ بتاتا ہے کہ جدید جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ تصویر، کیپشن اور الگورتھم میں بھی لڑی جاتی ہیں — اور ایران اپنے دفاع میں یہاں بھی ثابت قدم ہے۔
ایران اس وقت ایک داخلی بحران اور بیرونی مداخلت کی دوہری کیفیت سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے حالیہ ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور ان جانوں کو “امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے شہداء” قرار دیا۔ یہ اصطلاح جذباتی نہیں بلکہ تشخیص ہے۔ تہران اس صورتحال کو داخلی بغاوت نہیں بلکہ بین الاقوامی انجینئرنگ کے فریم میں دیکھتا ہے، اور اگر تاریخ کھولی جائے تو اس پالیسی کا منطق بھی موجود ہے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق احتجاجی واقعات میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایران کے مطابق بیس سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس سب کے باوجود ایران کے حکومتی حلقوں میں نہ گھبراہٹ، نہ افراتفری اور نہ سیاسی ٹوٹ پھوٹ دکھائی دیتی ہے، بلکہ ایک اجتماعی یقین کہ ملک کا مسئلہ داخلی نہیں بلکہ جیوپولیٹیکل ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں صرف معاشی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی جدید ترین صورت ہیں۔ یہی پابندیاں اگر کسی اور مسلم ریاست پر لگ جاتیں تو سیاسی ڈھانچہ مدتوں پہلے گر چکا ہوتا۔ عراق، لیبیا، افغانستان اور شام اس کی مثال ہیں۔ مگر ایران نے پابندی کو محاصرہ نہیں بلکہ مزاحمت کے ہتھیار میں بدلا۔ یہ سیاسی مہارت ہر جگہ نہیں ملتی۔
یہ ضروری ہے کہ ایران کو دیومالائی یا بے عیب کردار نہ بنایا جائے۔ کوئی بھی ریاست بے عیب نہیں ہوتی۔ ایران میں بھی اختلافات ہیں، نظامی سختیاں ہیں اور سیاسی بحثیں بھی، مگر اس سب کے باوجود ایک حقیقت قائم رہتی ہے کہ وہ نہ بکتا ہے، نہ جھکتا ہے اور نہ خودمختاری گروی رکھتا ہے۔ آج مسلم دنیا میں یہ رویہ کم ہو چکا ہے اور شاید اسی لیے اس کی طلب بڑھ گئی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ ایران اس بحران سے نکلے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیسے نکلے گا؟ کیا وہ کمزور ہو کر نکلے گا یا زیادہ مضبوط؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایران ہر دباؤ کے بعد سخت ہوتا ہے، زیادہ خود کفیل بنتا ہے اور زیادہ سیاسی طور پر خود مختار۔ اور شاید اسی لیے کہنا پڑتا ہے کہ ایران — ٹوٹا نہیں، جھکا نہیں اور فراموش نہیں کیا جائے گا۔