برطانیہ کا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کا منصوبہ
ماسکو (صداۓ روس)
پانچ سو کلومیٹر سے زائد رینج، روس کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت
برطانوی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کے لیے نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جو روسی سرزمین کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس مقصد کے لیے اتوار کے روز “پروجیکٹ نائٹ فال” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا ہدف یوکرین کی حملہ آور صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ بیان کے مطابق مجوزہ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل تقریباً دو سو کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور ان کی مار پانچ سو کلومیٹر سے زائد ہوگی۔ منصوبے کے تحت تین صنعتی ٹیموں کو ایک سال کے اندر آزمائشی میزائل تیار کرنے کے لیے ٹھیکے دیے جائیں گے۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پیداوار کی رفتار بڑھا کر ماہانہ دس تک نظام تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ہر میزائل کی متوقع لاگت دس لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ منصوبے کے لیے تجاویز فروری کے آغاز میں طلب کی جائیں گی، جبکہ مارچ دو ہزار چھبیس تک معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ برطانوی وزیر برائے دفاعی خریداری لیوک پولارڈ نے وزارت کے حوالے سے بیان میں کہا کہ ایک محفوظ یورپ کے لیے ایک مضبوط یوکرین ضروری ہے، اور یہ نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے برطانوی میزائل یوکرین کو میدانِ جنگ میں مضبوط رکھیں گے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایک نیا دباؤ بنیں گے۔ اس اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانیہ میں روسی سفیر آندرے کیلن نے روسی خبر رساں ادارے ریانووستی کو بتایا کہ لندن ایسے میزائل فراہم کرنے کے وعدے کر رہا ہے جو ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئے، جسے انہوں نے محض خوش فہمی قرار دیا۔
برطانیہ فروری دو ہزار بائیس میں تنازع کے آغاز کے بعد سے یوکرین کا ایک مضبوط حامی رہا ہے۔ لندن یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل، جن میں اسٹورم شیڈو شامل ہیں، فراہم کر چکا ہے اور ان کے روس کے اندر اہداف کے خلاف استعمال پر عائد پابندیاں بھی ختم کر چکا ہے، جسے ماسکو نے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔
یوکرین اس سے قبل برطانیہ اور فرانس کے تیار کردہ اسٹورم شیڈو میزائلوں کو کریمیا اور ڈونباس میں حملوں کے لیے استعمال کر چکا ہے، جبکہ روس کے دیگر علاقوں بشمول ماسکو پر روزانہ ڈرون حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ روس نے یوکرین پر شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی پرامن تصفیے کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے اور نیٹو ممالک کو براہِ راست تنازع میں گھسیٹ رہی ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق یوکرین کو بھیجی جانے والی کسی بھی اسلحہ کھیپ کو جائز فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔