بحیرۂ اسود میں روسی بندرگاہ کی جانب جانے والے قازق آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ

Oil Tanker Oil Tanker

بحیرۂ اسود میں روسی بندرگاہ کی جانب جانے والے قازق آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ

آستانہ (صداۓ روس)
قازقستان کی سرکاری آئل کمپنی قازمونے گیس نے تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ اسود میں روسی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک قازق آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ حملہ منگل کے روز پیش آیا جب ٹینکر روس کے بندرگاہی شہر نووروسیسک میں واقع کاسپین پائپ لائن کنسورشیم (سی پی سی) ٹرمینل سے تیل لینے کے لیے روانہ تھا۔ بیان کے مطابق ’میٹیلڈا‘ نامی ٹینکر اتوار کو سی پی سی ٹرمینل پر خام تیل لوڈ کرنے والا تھا، تاہم راستے میں ڈرون حملے کا نشانہ بن گیا۔ قازمونے گیس کا کہنا ہے کہ حملے میں عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور جہاز اب بھی سمندر میں چلنے کے قابل ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بحیرۂ اسود میں سی پی سی ٹرمینل کی جانب جانے والے چار آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں ’میٹیلڈا‘ بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے عندیہ دیا گیا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہو سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی کییف کی جانب سے روس میں کنسورشیم کے اثاثوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، تاہم یوکرینی حکام نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔

واضح رہے کہ کاسپین پائپ لائن کنسورشیم قازقستان، روس اور مغربی نجی کمپنیوں کے اشتراک سے قائم ہے اور یہ قازقستان کے تینگیز آئل فیلڈ سے خام تیل روسی بندرگاہ نووروسیسک منتقل کرتا ہے۔ روسی فوج اس سے قبل بھی سی پی سی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرینی حملوں کی اطلاعات دے چکی ہے، جن کا مقصد روس کی عالمی تیل تجارت کو متاثر کرنا بتایا جاتا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ اگرچہ کییف سرکاری طور پر شہری انفرااسٹرکچر پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا، تاہم متعدد واقعات میں یوکرینی خفیہ اداروں کے کردار کی نشاندہی مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں کی جا چکی ہے، جنہیں روس عالمی سطح پر تخریب کاری اور دہشت گردی کی مہم قرار دیتا ہے۔

Advertisement