روس کی ایران کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سخت مذمت

Maria Zakharova Maria Zakharova

روس کی ایران کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سخت مذمت

ماسکو (صداۓ روس)
روس نے ایران کے داخلی سیاسی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماسکو ایران کے اندرونی سیاسی عمل میں تخریبی بیرونی مداخلت کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ماریا زاخارووا کے مطابق ایران کی حکومت تعمیری مکالمے کے لیے آمادہ دکھائی دیتی ہے تاکہ مغربی ممالک کی جانب سے اختیار کی گئی معاندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی و معاشی مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے خبردار کیا کہ جون 2025 میں ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کو دہرانے کے لیے بیرونی طور پر بھڑکائی گئی بدامنی کو جواز بنانے کی کسی بھی کوشش کے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی پر تباہ کن نتائج ہوں گے۔ انہوں نے ایران کے غیر ملکی شراکت داروں کو تجارتی محصولات بڑھانے کی دھمکیوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔

ماریا زاخارووا نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے برسوں سے عائد غیر قانونی پابندیاں ایران کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور ان کے منفی اثرات براہِ راست عام ایرانی شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی معاند قوتیں عوامی بے چینی کا فائدہ اٹھا کر ایرانی ریاست کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جہاں نام نہاد ’کلر ریوولیوشن‘ کی حکمتِ عملی کے تحت پُرامن احتجاج کو پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں حتیٰ کہ بچوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں احتجاجی سرگرمیوں میں کمی اور اندرونی سیاسی صورتحال میں بہتری کے آثار ایران میں بتدریج استحکام کی امید دلاتے ہیں۔ ماریا زاخارووا کے مطابق ایران کی خودمختاری کے حق میں ہزاروں شہریوں کے مظاہرے اس بات کی ضمانت ہیں کہ آزاد خارجہ پالیسی اپنانے والے ممالک کے خلاف بنائے گئے منفی منصوبے ناکام ہوں گے۔ آخر میں انہوں نے بتایا کہ روسی سفارتی ادارے ایران میں معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور وہاں مقیم روسی شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ روسی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

Advertisement