روس چین ایران اور شمالی کوریا، مغرب کے خلاف ایک مضبوط قلعہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کو عالمی سطح پر تیزی سے ایک ایسے بلاک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مغربی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ اشتراک بالخصوص عسکری اور تکنیکی تعاون، معاشی روابط، پابندیوں سے بچنے کے طریقوں اور مغرب مخالف بیانیے کی ہم آہنگ تشہیر کے ذریعے سامنے آ رہا ہے، جسے بعض مغربی تجزیہ کار ایک نیا ’’محورِ انتشار‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے درمیان یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ ایک مکمل اور منظم اتحاد ہے یا محض مفادات پر مبنی ڈھیلا ڈھالا تعاون۔
عسکری اور سیکیورٹی کے شعبے میں شمالی کوریا اور ایران کی جانب سے روس کو ڈرونز، گولہ بارود اور مختلف ٹیکنالوجیز کی فراہمی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جو یوکرین جنگ میں روسی صلاحیت کو تقویت دیتی ہیں۔ اسی طرح چین پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ روس کو دوہری استعمال کی اشیا اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے، جس سے مغربی پابندیوں کی افادیت کمزور ہو رہی ہے۔ معاشی میدان میں یہ ممالک مختلف تجارتی راستوں اور مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر بحیرۂ کیسپین کے راستے تجارت اور چین کی جانب سے ایران کو ضروری اشیا کی فراہمی کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ روابط مغربی دباؤ کے باوجود ان ممالک کی معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں۔
اطلاعاتی جنگ کے محاذ پر بھی ان ممالک کے سرکاری میڈیا میں مشترکہ بیانیہ نمایاں ہے، جہاں یوکرین جنگ کا الزام نیٹو پر عائد کیا جاتا ہے اور امریکہ و اسرائیل مخالف مؤقف کو تقویت دی جاتی ہے۔ اس ہم آہنگی کو مغربی مؤقف کے مقابل ایک متبادل عالمی بیانیہ سمجھا جاتا ہے۔ جغرافیائی سیاست کے تناظر میں یہ ممالک مختلف خطوں میں امریکی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ روس یورپ میں، چین انڈو پیسفک میں، ایران مشرق وسطیٰ میں اور شمالی کوریا مشرقی ایشیا میں اپنی اپنی سطح پر سرگرم ہیں، جس کا مقصد مغربی وسائل کو منتشر اور دباؤ میں لانا بتایا جاتا ہے۔
مغربی تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس رجحان کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتی ہے، جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایک مکمل عسکری اتحاد کا تصور مبالغہ آمیز ہے، خصوصاً اس لیے کہ چین مغربی معیشتوں سے گہرے معاشی روابط کے باعث روس کو کھل کر عسکری مدد دینے سے گریزاں ہے۔ اس صورتحال نے مغربی ممالک کو اپنی حکمت عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے، جہاں بھارت اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ مسئلہ بنیاد پر تعاون کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔