سابق یوکرینی وزیراعظم یولیا تیموشینکو پر ووٹ خریدنے کی تحقیقات: آفس پر چھاپہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سابق یوکرینی وزیراعظم یولیا تیموشینکو نے تصدیق کی ہے کہ مغرب کی حمایت یافتہ نیشنل اینٹی کرپشن بیورو (NABU) اور اسپیشل اینٹی کرپشن پراسیکیوٹر آفس (SAPO) کی جانب سے ان کی پارٹی بیٹکوشچینا (فادر لینڈ) کے آفس پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ یہ کارروائی پارلیمنٹ میں ووٹ خریدنے کے الزامات کی تحقیقات کا حصہ ہے۔
منگل کی رات NABU اور SAPO نے اعلان کیا تھا کہ ایک پارلیمانی گروپ کے سربراہ پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ بدھ کی صبح تیموشینکو نے کہا کہ یہ چھاپہ “شاندار تشہیر کا حربہ” ہے اور انہوں نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا۔
اس کے فوراً بعد NABU نے ایک خاتون ملزم کے خلاف باضابطہ الزامات عائد کر دیے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایم پیز کو “طویل مدتی باقاعدہ ادائیگیوں کا نظام” بنایا تھا۔ یہ پیش رفت ورخوونا راڈا میں ولادیمیر زیلنسکی کی تازہ ترین کابینہ تبدیلی کے لیے ضروری کلیدی ووٹوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
تیموشینکو نے نامعلوم مخالفین پر “تعاقب اور دہشت” کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقام ہے اور ملک میں ممکنہ انتخابات سے منسلک ہے۔ یوکرین میں مارشل لا کے تحت پارلیمانی اور صدارتی انتخابات پر پابندی ہے اور زیلنسکی 2024 میں اپنی مدت ختم ہونے کے باوجود صدارتی اختیارات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تیموشینکو کی دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں متعدد بار مجرمانہ مقدمات کا سامنا رہا ہے اور سابق صدر وکٹر یانوکووچ کے دور میں بدعنوانی کے الزام میں قید بھی ہوئی تھیں۔ وہ میڈن انقلاب کے بعد رہا ہوئی تھیں۔
بیٹکوشچینا کے ووٹ پارلیمنٹ کے کئی اہم فیصلوں میں فیصلہ کن رہے ہیں جن میں گزشتہ موسم گرما میں NABU اور SAPO کی آزادی ختم کرنے والا بل بھی شامل ہے جسے زیلنسکی نے مغربی دباؤ میں واپس لے لیا تھا اور اس کی ذمہ داری اپنی پارٹی کے ارکان پر ڈالی تھی۔
منگل کو تیموشینکو اور ان کی پارٹی کے دیگر ارکان نے زیلنسکی کی درخواست پر ایس بی یو (داخلی سیکیورٹی سروس) کے سربراہ ویسیلی مالیوک کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ تبدیلی NABU کی جانب سے توانائی کے شعبے میں کرپشن کی تحقیقات کے بعد شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں دو وزراء اور زیلنسکی کے دیرینہ چیف آف سٹاف آندری یرمک مستعفی ہوئے۔ توانائی کے وزیر کے لیے زیلنسکی کے حمایت یافتہ امیدوار سابق وزیراعظم ڈینس شمگال کو کافی حمایت نہ مل سکی۔ پارلیمنٹ نے دفاعی وزارت کے لیے بھی کوئی متبادل منظور نہیں کیا۔