بھارت: کشمیر میں میڈیکل کالج بند — مسلم طلبہ کی اکثریت پر ہنگامے کے بعد فیصلہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں واقع ایک نجی میڈیکل کالج کو اس وقت بند کر دیا گیا جب وہاں داخلہ لینے والے طلبہ میں مسلمانوں کی نمایاں اکثریت سامنے آئی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج اور دباؤ جاری تھا۔ بھارتی نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے 6 جنوری کو ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (SMVDMI) کی منظوری منسوخ کر دی۔ یہ ادارہ ہمالیائی سلسلے کے پیر پنجال کے قریب واقع ہے اور جموں کے میدانوں کو وادیٔ کشمیر سے جدا کرتا ہے۔ مذکورہ کالج نے نومبر میں پہلی بار ایم بی بی ایس پروگرام کا آغاز کیا تھا، جس میں مجموعی طور پر 50 طلبہ نے داخلہ لیا۔ داخلہ لینے والے طلبہ میں سے 42 مسلمان تھے، جن کی اکثریت کا تعلق کشمیر سے تھا، جبکہ 7 ہندو اور 1 سکھ طالب علم شامل تھا۔ یہی تناسب دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے لیے اعتراض کا باعث بنا، جس کے بعد کالج کے خلاف مہم شروع کی گئی۔
بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرینس ٹیسٹ (NEET) کے ذریعے ہوتے ہیں، جو وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی منعقد کرتی ہے۔ ہر سال 20 لاکھ سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں، جبکہ پورے ملک میں ایم بی بی ایس کی نشستیں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ہیں۔ زیادہ تر طلبہ کم فیس کے باعث سرکاری کالجوں کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ نجی کالجوں میں داخلہ نسبتاً کم نمبروں پر ملتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ سانیہ جان بھی ان طلبہ میں شامل تھیں جنہوں نے نیٹ پاس کر کے اس کالج میں داخلہ لیا۔ سانیہ کے مطابق ڈاکٹر بننا ان کا خواب تھا اور ریاسی میں واقع یہ ادارہ ان کے گھر سے نسبتاً قریب تھا، اس لیے انہوں نے اسی کا انتخاب کیا۔ نومبر میں تعلیمی سیشن کے آغاز پر ان کے والدین خود انہیں کالج چھوڑنے آئے تھے۔ سانیہ کے والد غزنفر احمد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بچپن سے ہی نمایاں طالبہ رہی ہے اور اس نے سخت محنت سے میڈیکل سیٹ حاصل کی، تاہم کالج کی اچانک بندش نے ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔