گرین لینڈ: جرمن فوجی دستہ روانہ، یورپی ممالک کی ممکنہ تعیناتی کی تیاری

German Army German Army

گرین لینڈ: جرمن فوجی دستہ روانہ، یورپی ممالک کی ممکنہ تعیناتی کی تیاری

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جرمنی کی مسلح افواج بنڈس وئیر نے گرین لینڈ میں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ابتدائی فوجی ٹیم روانہ کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے 400 ایم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ جرمن فوجیوں کو گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک لے کر پہنچا۔ جرمن وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ 13 فوجیوں پر مشتمل دستہ گرین لینڈ بھیجا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ڈنمارک کی ممکنہ فوجی معاونت کے حوالے سے زمینی حالات اور فریم ورک کا جائزہ لینا ہے۔ اس سے قبل جرمن اخبار بِلد نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے سے متعلق بیانات کے بعد یورپی ممالک کے پہلے فوجی دستے جزیرے پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی اور ڈنمارک کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن بھی اس مشن میں حصہ لیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فوجی مشن کی نگرانی نیٹو کے بجائے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے کی جا رہی ہے، حالانکہ شامل تمام ممالک نیٹو کے رکن ہیں۔ اخبار کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے فوجی تعیناتی کی تیاریاں خفیہ طور پر جاری تھیں، جو امریکی صدر کے بیانات کے بعد مزید تیز ہو گئیں۔ بِلد کے مطابق ابتدائی فوجی دستے گرین لینڈ اس وقت بھیجے گئے جب بدھ کے روز ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔ 14 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ ڈنمارک کے اعتراضات کے باوجود امریکا گرین لینڈ کے حصول کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے۔ 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ ڈیفنس معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے ممکنہ جارحیت کی صورت میں جزیرے کے دفاع کا وعدہ کیا تھا، جبکہ دونوں ممالک نیٹو اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔

Advertisement