گرین لینڈ پر روسی اور چینی فوجی خطرے کا امریکی بیانیہ درست نہیں، سوئیڈن

Pal Jonson Pal Jonson

گرین لینڈ پر روسی اور چینی فوجی خطرے کا امریکی بیانیہ درست نہیں، سوئیڈن

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سوئیڈن کے وزیرِ دفاع پال یونسن نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے اطراف روس اور چین کی بھاری فوجی موجودگی کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق خطے سے متعلق سوئیڈن اور اس کے اتحادیوں کے سکیورٹی جائزے ایسے کسی شدید خطرے کی تصدیق نہیں کرتے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں پال یونسن نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ گرین لینڈ کے اردگرد روسی اور چینی بحری جہازوں کی بھرمار ہے تو یہ خطے کے بارے میں دستیاب انٹیلی جنس جائزوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کی آرکٹک سرگرمیاں محدود ہیں اور زیادہ تر تحقیقی جہازوں تک ہی محدود رہی ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور یہاں تک کہ طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ صرف امریکی خودمختاری ہی گرین لینڈ کو روس یا چین کے قبضے سے بچا سکتی ہے۔

حال ہی میں ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن اور گرین لینڈ کی وزیرِ خارجہ ویوین موٹزفیلڈ نے واشنگٹن کا دورہ کیا، جس کے بعد انہوں نے تسلیم کیا کہ گرین لینڈ کی سلامتی کے حوالے سے یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلاف موجود ہے۔ راسموسن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران گرین لینڈ کے نزدیک کسی چینی جنگی جہاز کی موجودگی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل ڈنمارک کی گرین لینڈ کے دفاعی انتظامات کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’’دو کتوں کی برفانی گاڑیاں‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ دوسری جانب بدھ کے روز ڈنمارک نے اعلان کیا کہ گرین لینڈ میں ایک فوجی مشق منعقد کی جائے گی، جس میں جرمنی، فرانس، سوئیڈن، ناروے اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک محدود تعداد میں فوجی دستے بھیجیں گے۔ روسی کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بھی اس صورتحال کو بین الاقوامی قانون کے حوالے سے ’’غیر معمولی‘‘ قرار دیا ہے، تاہم ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ پیش رفت حیران کن نہیں۔ ماسکو صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Advertisement