ڈنمارک میں ہزاروں افراد کا امریکہ کے گرین لینڈ پر قبضے کی منصوبہ بندی کے خلاف احتجاج

Denmark Denmark

ڈنمارک میں ہزاروں افراد کا امریکہ کے گرین لینڈ پر قبضے کی منصوبہ بندی کے خلاف احتجاج

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈنمارک میں ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکا میں ضم کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی ایکسپریس کے مطابق 17 جنوری کو ڈنمارک کے دوسرے بڑے شہر آروس میں ہونے والے مظاہرے میں مقامی شہریوں، سماجی کارکنوں اور گرین لینڈ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’گرین لینڈ سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘ اور ’’امریکا ملک سے باہر جاؤ‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرنے والوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف وہاں کے عوام کا حق ہے اور ڈنمارک کسی بھی صورت سیاسی مفادات کے تحت اپنا علاقہ کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ گرین لینڈ کے عوام کی خودمختاری اور وقار کی توہین بھی ہیں۔ احتجاج میں شریک گرین لینڈ کے باشندوں نے اس بات پر زور دیا کہ جزیرے کی اسٹریٹیجک حیثیت کو جواز بنا کر اس پر قبضے کی بات ناقابلِ قبول ہے۔

واضح رہے کہ 14 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ اگرچہ امریکا اور ڈنمارک کے تعلقات اچھے ہیں، تاہم امریکی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے امریکی قیادت کی جانب سے بار بار دیے جانے والے بیانات کو ’’غیر شائستہ اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ جزیرے کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

Advertisement