جرمن نوجوانوں کا فوج میں شمولیت سے گریز، ملک کو مشکلات کا سامنا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
دی وال اسٹریٹ جرنل کی 17 جنوری کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کو اپنی فوج بنڈس وئیر کے لیے مطلوبہ تعداد میں اہلکار بھرتی کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ نسلِ زیڈ کے نوجوانوں کا فوجی خدمات میں شمولیت کو غیر ضروری سمجھنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان بنیادی طور پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ فوج میں کیوں شامل ہوں اور اپنی جان کیوں خطرے میں ڈالیں، جبکہ ریاست اپنے وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ بزرگ شہریوں کی پنشن پر خرچ کر رہی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو ریاست کی جانب سے اپنے لیے کوئی واضح فائدہ نظر نہیں آتا۔ پچیس سالہ طالب علم اور ریاضی کے ٹیوٹر بینیڈکٹ زاخر کے مطابق، ’’جمہوریت میں آپ ریاست کے لیے کچھ کرتے ہیں اور بدلے میں کچھ حاصل کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کے طلبہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ریاست کی طرف سے کچھ نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں وہ ’’بتدریج خود غرض‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان فوج کے لیے نہ صرف جسمانی صلاحیتوں کی وجہ سے اہم ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ بنڈس وئیر کے پاس اپنے 9 لاکھ 30 ہزار ریزرو فوجیوں کی اکثریت سے رابطہ کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ 2011 کے بعد ریزرو اہلکاروں کی فائلیں محفوظ کرنا بند کر دی گئی تھیں، جبکہ ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین دیگر ذاتی ریکارڈز کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نسلِ زیڈ کے بعض نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ وہ فوج میں شمولیت کے حق میں نہیں، تاہم کسی جنگ کی صورت میں وہ ’’یکجہتی کے جذبے اور اس لیے کہ جمہوریت آخرکار قیمتی ہے‘‘ جنگ میں جانے کے لیے تیار ہوں گے۔ دسمبر میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا تھا کہ آنے والے برسوں میں جرمنی لازمی فوجی سروس اور متبادل شہری سروس دوبارہ متعارف کرا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا کہ جرمن آئین خواتین کے لیے لازمی فوجی سروس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس سے قبل 8 دسمبر کو انہوں نے کہا تھا کہ اگر بنڈس وئیر کو اہلکاروں کی کمی کا سامنا رہا تو جبری فوجی خدمت پر بحث دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، تاہم فی الحال حکومت رضاکارانہ سروس پر انحصار کر رہی ہے۔ 12 نومبر کو جرمنی میں نئے فوجی سروس قانون پر بحث کے دوران صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا تھا کہ ہر شہری کو لازمی فوجی سروس انجام دینی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1995 میں جرمنی نے اتحاد کو یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تین برس کے اندر پانچ لاکھ جنگی طور پر تیار فوجی فراہم کرے گا، جو رضاکارانہ فوجی سروس کے نظام کے تحت ممکن نہ ہو سکا۔