روس میں آرتھوڈوکس عیسائی آج ‘ایپفنی’ منا رہے ہیں
ماسکو (صداۓ روس)
روس میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک بڑی مذہبی عید آج منائی جا رہی ہے جسے عیدِ ظہورِ رب یا ‘ایپفنی’ کہا جاتا ہے۔ یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دریائے اردن میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بپتسمہ لینے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ روسی روایت میں اس تہوار کو کریشچینیہ کہا جاتا ہے اور یہ کلیسائی سال کی اہم ترین تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔ روسی آرتھوڈوکس چرچ جولین کیلنڈر کے مطابق اس عید کو ہر سال ۱۹ جنوری کو مناتا ہے۔ اس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بپتسمہ کو دنیا کے سامنے ان کی الوہیت کے ظہور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے مذہبی اصطلاح میں تجلی یا ظہور کہا جاتا ہے۔ اس دن کی سب سے نمایاں رسم پانی کی تقدیس ہے، جس کے تحت خصوصی عبادات کے دوران پانی کو متبرک قرار دیا جاتا ہے۔ عقیدت مند یہ مقدس پانی گھروں میں لے جاتے ہیں اور پورا سال برکت اور شفا کی نیت سے استعمال کرتے ہیں۔ مذہبی عقیدے کے مطابق اس دن کا پانی روحانی اور جسمانی پاکیزگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور معروف روایت شدید سردی کے باوجود برفیلے دریاؤں اور جھیلوں میں بنائے گئے صلیبی شکل کے سوراخوں میں غوطہ لگانا ہے۔ عقیدت مند تین مرتبہ پانی میں اترتے ہیں جو تثلیث کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس عمل کو گناہوں سے پاکیزگی، روحانی تجدید اور اچھی صحت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ عیدِ ظہورِ رب روسی آرتھوڈوکس مسیحیوں کے لیے نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بپتسمہ کی یاد دہانی ہے بلکہ یہ دن انہیں اپنے ایمان، بپتسمہ کے عہد اور روحانی زندگی کی تجدید کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔