ڈنمارک مغربی گرین لینڈ میں بڑی تعداد میں فوجی بھیج رہا ہے، رپورٹ

Danish Army Danish Army

ڈنمارک مغربی گرین لینڈ میں بڑی تعداد میں فوجی بھیج رہا ہے، رپورٹ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈنمارک کی فوج کی جانب سے مغربی گرین لینڈ کے علاقے کانگرلوسواک میں پیر کی رات دیر گئے بڑی تعداد میں فوجیوں کی آمد متوقع ہے۔ یہ اطلاع ڈینش ٹی وی چینل TV2 نے ڈینش فوج کے حوالے سے دی ہے۔ ڈینش آرمی کمانڈ کے چیف پیٹر ایچ بوئسن بھی گرین لینڈ پہنچنے والے ہیں۔ ڈینش فوجی قیادت کے مطابق یہ تعیناتی جزیرے پر ڈنمارک کی فوجی تعمیر نو (buildup) کا حصہ ہے۔ ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے کمانڈر سورن اینڈرسن نے پہلے بتایا تھا کہ تقریباً 100 ڈینش فوجی پہلے ہی گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد کانگرلوسواک میں موجود ہے۔ یہ فوجی آرکٹک اینڈیورنس مشقوں میں حصہ لیں گے۔ 14 جنوری کو گرین لینڈ کی حکومت اور ڈینش وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ آرکٹک میں بڑھتی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے تناظر میں ڈنمارک نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں فوجی مشقیں جاری رکھے گا۔

سویڈن، ناروے، جرمنی، فرانس، برطانیہ، فن لینڈ اور نیدرلینڈز نے بھی اپنے فوجیوں کو جزیرے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تعیناتیاں اس وقت ہو رہی ہیں جب امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں اور ٹیرف دھمکیوں نے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھا دیا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے بار بار واضح کیا ہے کہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Advertisement