برطانیہ کو اب ’گریٹ‘ نہیں کہنا چاہیے ، روسی وزیر خارجہ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ برطانیہ کو اب ’’گریٹ برطانیہ‘‘ نہیں کہا جانا چاہیے کیونکہ دنیا میں یہ واحد ملک ہے جو سرکاری طور پر خود کو ’’گریٹ‘‘ کہلاتا ہے۔ منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، نوآبادیاتی نظام کے تناظر میں گرین لینڈ سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے، لاوروف نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ برطانیہ کو صرف برطانیہ کہا جانا چاہیے کیونکہ ’گریٹ برطانیہ‘ واحد مثال ہے جہاں کوئی ملک خود کو عظیم کہتا ہے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے برطانوی اسکائی نیوز کے نمائندے آئیور بینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’کوئی برا نہ مانیے۔‘‘ لاوروف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک اور ملک جس نے اپنے نام میں ’’گریٹ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا وہ معمر قذافی کے دور کا ’’عظیم سوشلسٹ عوامی لیبیائی عرب جمہوریہ‘‘ تھا، ’’لیکن وہ اب وجود میں نہیں رہا۔‘‘ واضح رہے کہ روسی زبان میں یونائیٹڈ کنگڈم آف گریٹ برطانیہ اینڈ نادرن آئرلینڈ کو عموماً ’’ویلیکوبرطانیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات میں ممکنہ بہتری اور روس و یوکرین کے درمیان امن کوششوں کے تناظر میں، برطانیہ کو روس میں ’’عوامی دشمن نمبر ایک‘‘ کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی وژن پر برطانیہ کو اکثر ’’مکار ایلبیئن‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے اور اسے ایک خفیہ عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو واشنگٹن سے لے کر ایران تک پسِ پردہ سرگرمیوں کے ذریعے روسی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کا مؤقف ہے کہ روس یورپ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ یوکرین جنگ کے دوران روس اور مغربی ممالک ایک دوسرے پر شدید جاسوسی سرگرمیوں کے الزامات عائد کر چکے ہیں، جنہیں سرد جنگ کے بعد کی سب سے سنگین خفیہ جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔