ڈنمارک نے گرین لینڈ کو ہمیشہ کالونی سمجھا ، پوتن
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے ساتھ آپریشنل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں تین بڑے بین الاقوامی مسائل پر روسی موقف واضح کیا۔ صدر پوتن نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکی “پیس کونسل” کی تجویز پر روس تیار ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ خصوصی تعلقات کی بنیاد پر ایک ارب امریکی ڈالر امداد دے، جو پچھلی امریکی انتظامیہ کے دور میں منجمد روسی اثاثوں سے دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی عمل اقوام متحدہ کے متعلقہ فیصلوں کی بنیاد پر فلسطینی-اسرائیلی تنازع کے طویل مدتی حل میں معاون ہونا چاہیے۔ وہ اس معاملے پر فلسطین کے صدر محمود عباس اور امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات چیت کریں گے جو 22 جنوری کو ماسکو آرہے ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس یوکرین تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے اور موجودہ امریکی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ منجمد روسی اثاثوں کی باقی رقم روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ امکان بھی امریکی نمائندوں کے ساتھ زیر بحث ہے۔
گرین لینڈ کے معاملے پر صدر پوتن نے کہا کہ یہ روس کو متاثر نہیں کرتا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں الاسکا کی 1867 میں فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی قیمت تقریباً 200-250 ملین ڈالر یا سونے کی قیمتوں کے لحاظ سے ایک ارب کے قریب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ڈنمارک پر تنقید کی کہ وہ گرین لینڈ کو نوآبادیاتی انداز میں دیکھتا رہا ہے اور کہا کہ “وہ خود اسے حل کر لیں گے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔