مصنوعی ذہانت مستقبل میں ڈاکٹروں کی جگہ لے سکتی ہے

Hospital Hospital

مصنوعی ذہانت مستقبل میں ڈاکٹروں کی جگہ لے سکتی ہے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
متنازع سارسو خودکشی پوڈ کے موجد فلپ نِچکے نے کہا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہے کہ آیا معاون خودکشی کے خواہشمند افراد ذہنی طور پر اس فیصلے کے اہل ہیں یا نہیں۔ یورونیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک وقت آ سکتا ہے جب اس عمل میں ماہرِ نفسیات کی جگہ اے آئی لے لے۔ سارسو، جسے سارکوفیگس کا مخفف کہا جاتا ہے، ایک تھری ڈی پرنٹڈ کیپسول ہے جس میں ایک فرد لیٹ کر بٹن دباتا ہے۔ اس کے بعد کیپسول میں آکسیجن کی سطح تیزی سے کم کر دی جاتی ہے اور نائٹروجن بھری جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی کمی سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ آسٹریلوی نژاد یوتھینیزیا مہم چلانے والے فلپ نِچکے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ کوئی شخص اپنی جان لینے کے فیصلے کے لیے ’’ذہنی صلاحیت‘‘ رکھتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی کو مرنے کی اجازت دیں یا نہ دیں، بلکہ فیصلہ مکمل ہوش و حواس رکھنے والے فرد کا ہونا چاہیے۔

جن ممالک میں معاون خودکشی کی اجازت ہے، وہاں عموماً ماہرینِ نفسیات اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا متعلقہ شخص ذہنی طور پر اس فیصلے کا اہل ہے، تاہم یہ عمل محدود اور شدید بحث کا موضوع ہے۔ نِچکے کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار غیر مستقل ہے اور ایک ہی مریض کو مختلف ماہرین کی جانب سے مختلف آرا ملتی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے اے آئی نظام کی تجویز دی ہے جس میں ایک مکالماتی اوتار فرد سے بات چیت کر کے اس کی ذہنی اہلیت کا جائزہ لے گا۔ اگر مصنوعی ذہانت کسی شخص کو ذہنی طور پر اہل قرار دے دے تو سارسو پوڈ فعال ہو جائے گا اور 24 گھنٹوں کی مہلت دی جائے گی، جس کے بعد دوبارہ جانچ ضروری ہوگی۔ نِچکے کے مطابق اس سافٹ ویئر کے ابتدائی ورژن موجود ہیں، تاہم ان کی آزادانہ توثیق نہیں ہوئی۔

Advertisement

سارسو پوڈ کا پہلا اور واحد استعمال ستمبر 2024 میں سوئٹزرلینڈ میں ہوا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ سوئس حکام نے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور کہا کہ یہ آلہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، جہاں معاون خودکشی صرف سخت شرائط کے تحت جائز ہے۔ یہ تجویز ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کو جان و موت جیسے حساس فیصلوں میں کردار دینا چاہیے یا نہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ماہرینِ نفسیات اے آئی کے طویل استعمال سے وہم اور ذہنی الجھنوں کے خطرات کی نشاندہی کر چکے ہیں۔