روس میں استعمال شدہ کراس اوور گاڑیوں کی اوسط قیمت میں نمایاں کمی

crossover in Russia crossover in Russia

روس میں استعمال شدہ کراس اوور گاڑیوں کی اوسط قیمت میں نمایاں کمی

ماسکو (صداۓ روس)
روسی آن لائن آٹو پلیٹ فارم اویتو آٹو کے ماہرین کے مطابق روس میں استعمال شدہ ایس یو ویز، جن میں کراس اوور اور آف روڈ گاڑیاں شامل ہیں، کی اوسط قیمت گزشتہ ایک سال کے دوران سات اعشاریہ چھ فیصد کم ہو کر پندرہ لاکھ ستر ہزار روبل رہ گئی ہے۔ یہ بات تیئیس جنوری کو روزنامہ ازویستیا کو بتائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق متعدد مشہور ماڈلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چیری ٹیگو ٹی الیون کی قیمت میں پندرہ اعشاریہ ایک فیصد کمی کے بعد یہ اوسطاً تین لاکھ پینسٹھ ہزار روبل میں دستیاب رہی، جبکہ رینالٹ ڈسٹر تیرہ اعشاریہ تین فیصد کمی کے ساتھ دس لاکھ چار ہزار روبل میں فروخت ہوتی رہی۔ اسی طرح مٹسوبشی آؤٹ لینڈر کی قیمت بارہ فیصد کمی کے بعد تیرہ لاکھ نوے ہزار روبل، نسان قشقائی گیارہ اعشاریہ دو فیصد کمی کے بعد گیارہ لاکھ پچاس ہزار روبل اور کیا اسپورٹیج گیارہ فیصد کمی کے ساتھ پندرہ لاکھ روبل تک آ گئی۔

بی ایم ڈبلیو ایکس سکس کی اوسط قیمت میں دس اعشاریہ پانچ فیصد کمی کے بعد یہ چونتیس لاکھ روبل رہی، جبکہ ہنڈائی ٹوسان کی قیمت میں دس اعشاریہ دو فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ اٹھارہ لاکھ نوے ہزار روبل میں پیش کی جاتی رہی۔ اس کے علاوہ ہنڈائی آئی ایکس پینتیس، سوزوکی گرینڈ وٹارا اور آوڈی کیو سیون کی قیمتوں میں بھی تقریباً دس فیصد تبدیلی ریکارڈ کی گئی۔

Advertisement

ماہرین کے مطابق روس میں استعمال شدہ ایس یو ویز میں سب سے زیادہ مقبول برانڈز ٹویوٹا، بی ایم ڈبلیو، ہنڈائی، لادا اور نسان رہے۔ ماڈلز کے لحاظ سے لادا فور بائی فور نیوا، شیورلے نیوا، کیا اسپورٹیج، ٹویوٹا راو فور، بی ایم ڈبلیو ایکس فائیو، ٹویوٹا لینڈ کروزر، رینالٹ ڈسٹر، ووکس ویگن ٹیگوان، ٹویوٹا لینڈ کروزر پراڈو اور نسان قشقائی نے صارفین کی خاص توجہ حاصل کی۔

اویتو آٹو پلیٹ فارم پر استعمال شدہ ایس یو ویز اور کراس اوورز کی دستیابی میں سال بہ سال بنیاد پر نو اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اشتہارات نسان گاڑیوں کے تھے، جو کل سپلائی کا سات اعشاریہ چار فیصد بنتے ہیں، جبکہ ٹویوٹا اور ہنڈائی کی شرح چھ اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ اس کے بعد لادا چھ اعشاریہ پانچ فیصد اور کیا چھ فیصد کے ساتھ نمایاں رہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی استعمال شدہ کار مارکیٹ میں ایس یو ویز کا حصہ بتدریج بڑھ رہا ہے اور اندازہ ہے کہ دو ہزار پچیس میں یہ اٹھائیس فیصد سے تجاوز کر جائے گا، جو پانچ سال پہلے کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی گاڑیوں کی مارکیٹ میں بھی طویل عرصے سے اسی طبقے کا غلبہ رہا ہے، جہاں ایس یو ویز کا حصہ ستر فیصد سے زائد ہے۔

دریں اثنا، چینی کار ساز کمپنی جے اے سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی ایس یو وی جے ایس نائن کو روسی مارکیٹ میں دو ہزار چھبیس کی دوسری یا تیسری سہ ماہی میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل خاص طور پر روسی صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جبکہ رواں سال ایک اور نئے ماڈل کی لانچنگ کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔