امریکا شام سے مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا شام سے اپنی تمام فوج واپس بلانے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد پینٹاگون شام میں امریکی فوجی موجودگی کی افادیت پر سنجیدگی سے سوال اٹھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے شامی حکومتی افواج کی پیش قدمی کے نتیجے میں امریکا کی حمایت یافتہ کرد اکثریتی فورس، شامی ڈیموکریٹک فورسز، کو شدید کمزوری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کو شام میں اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکا نے دو ہزار چودہ میں شامی خانہ جنگی کے عروج کے دوران شام میں فوجی موجودگی قائم کی تھی۔ امریکی حکام اس موجودگی کو داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیتے رہے ہیں۔ اس وقت شام میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو زیادہ تر شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں میں موجود اڈوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کو خدشہ ہے کہ اگر کرد ملیشیائیں مکمل طور پر تحلیل ہو جاتی ہیں تو امریکی افواج کے لیے شامی حکومتی فورسز کے ساتھ تعاون ممکن نہیں رہے گا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ بعض شامی یونٹس پر جہادی روابط کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے دوران شامی فوج کے ڈرون امریکی اڈوں کے انتہائی قریب تک پہنچ گئے تھے، جسے خطرناک پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
گزشتہ سال دسمبر میں پالمیرا کے قریب داعش کے ایک حملے میں دو امریکی فوجی اور ان کا مترجم ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے داعش کے ٹھکانوں پر جوابی فضائی حملے کیے تھے۔
ادھر شامی حکومت، جو دسمبر دو ہزار چوبیس میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار میں آئی، نے گزشتہ اتوار کو کرد فورسز کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز کو شامی فوج اور سیکیورٹی اداروں میں ضم کیا جائے گا، جبکہ دمشق حکومت رقہ، دیر الزور اور الحسکہ کے شمال مشرقی صوبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا واقعی شام سے مکمل انخلا کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔