چین کے اعلیٰ ترین جنرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چین نے اپنے اعلیٰ ترین فوجی افسر جنرل ژانگ یووشیا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چین کی وزارتِ دفاع کے مطابق ژانگ یووشیا، جو کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن اور سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے نائب چیئرمین ہیں، پر “نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں” کا شبہ ہے۔ اسی نوعیت کی تحقیقات سی ایم سی کے ایک اور رکن لیو ژن لی کے خلاف بھی جاری ہیں۔ 74 سالہ ژانگ یووشیا نے 1968 میں پیپلز لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ چین کی فوج میں مقررہ ریٹائرمنٹ عمر سے زیادہ عرصے تک عہدے پر فائز رہے۔ سینٹرل ملٹری کمیشن چین کا اعلیٰ ترین فوجی ادارہ ہے جس کی سربراہی صدر شی جن پنگ کرتے ہیں۔
کچھ مغربی ذرائع ابلاغ، جن میں وال اسٹریٹ جرنل اور دی ٹائمز شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ ژانگ یووشیا پر چین کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا کو فراہم کرنے اور سرکاری ترقیوں کے بدلے بھاری رشوت لینے کے الزامات ہو سکتے ہیں، تاہم بیجنگ نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا گیا ہے کہ کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے ساتھ، ان کے عہدے سے قطع نظر، کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ صدر شی جن پنگ نے 2023 میں اپنی تیسری مدت کے آغاز کے بعد سے فوج اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ اداروں میں کرپشن کے خلاف مہم کو مزید تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران متعدد اعلیٰ حکام کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، جن میں سی ایم سی کے نائب چیئرمین، ارکان، وزیرِ دفاع اور کئی جنرلز شامل ہیں۔