امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار، نیویارک ٹائمز
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق خفیہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جب طالبان نے گوانتانامو بے میں قید ایک افغان شہری کو کسی بھی نئے معاہدے میں شامل کرنے پر اصرار کیا۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ اخبار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان نے کم از کم پانچ امریکی قیدی رہا کیے، تاہم دو امریکی شہریوں کی رہائی پر بات چیت اس وقت رک گئی جب فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ ان مذاکرات سے واقف تین گمنام ذرائع کے مطابق اصل تنازع گوانتانامو میں قید محمد رحیم کی رہائی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان محمد رحیم کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو گوانتانامو بے میں قید آخری افغان شہری ہیں اور جن پر القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے وابستگی کا الزام ہے۔ واشنگٹن نے کابل پر “یرغمال سفارت کاری” کا الزام عائد کیا ہے اور طالبان سے ایک تیسرے امریکی شہری کے ٹھکانے سے متعلق معلومات بھی طلب کی ہیں۔ تاہم طالبان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحویل میں صرف دو امریکی شہری ہیں۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی 2014 کی رپورٹ کے مطابق محمد رحیم کو 2007 میں پاکستان سے گرفتار کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا اور انہیں القاعدہ کا ایک سہولت کار قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے سخت تفتیشی طریقے استعمال کیے جانے کے باوجود محمد رحیم سے کوئی قابلِ قدر انٹیلی جنس معلومات حاصل نہیں کی جا سکیں۔ ان کے وکیل کا مؤقف ہے کہ ان پر عائد الزامات مبالغہ آمیز ہیں اور ٹھوس شواہد سے ثابت نہیں ہوتے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کے آخری مہینوں میں بھی کابل نے محمد رحیم کی رہائی کی کوشش کی تھی، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے گزشتہ سال رپورٹ کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھی طالبان سے رابطے میں رہی، جنہوں نے 2021 میں امریکی انخلا کے فوراً بعد مغرب نواز افغان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ طالبان اس وقت امریکا اور عالمی برادری سے باضابطہ تسلیم کیے جانے کے خواہاں ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ستمبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش کی تھی تاکہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول دوبارہ امریکا کے حوالے کیا جائے۔ یہ اڈہ سوویت دور میں تعمیر ہوا تھا اور بعد ازاں امریکا نے افغانستان میں اپنی تقریباً دو دہائیوں پر محیط موجودگی کے دوران اسے توسیع دی تھی۔