برطانیہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں شریک نہیں ہوگا، میڈیا رپورٹس

UK Navy UK Navy

برطانیہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں شریک نہیں ہوگا، میڈیا رپورٹس

ماسکو (صداۓ روس)
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں براہِ راست شرکت سے گریز کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں خطے میں اپنے اتحادیوں کو فوجی معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے انتیس جنوری کو رپورٹ کیا کہ ایران پر ابتدائی حملہ برطانیہ کے بین الاقوامی قانون سے متعلق فہم کے مطابق نہیں ہوگا، جس کے باعث لندن کی جانب سے اس کارروائی میں شامل ہونے کا امکان کم ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے برطانوی فضائیہ کے ٹائفون لڑاکا طیاروں کی قطر میں تعیناتی کو خطے میں اتحادی ممالک کی مدد کے لیے برطانیہ کی تیاری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے چھبیس جنوری کو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی بحریہ کا طاقتور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جو اس وقت بحرِ ہند میں تعینات ہے، ضرورت پڑنے پر ایک یا دو دن کے اندر ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس طیارہ بردار جہاز کے ساتھ مزید تین جنگی جہاز بھی موجود ہیں جو ٹوماہاک میزائلوں سے لیس ہیں۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے انتیس جنوری کو خبردار کیا کہ ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اس سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماسکو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی روز دفاعی امور کے تجزیہ نگار جیک بکبی نے انیس فورٹی فائیو کے لیے لکھے گئے ایک کالم میں کہا کہ ایران کے پاس موجود روسی ساختہ ورشاویانکا کلاس آبدوزیں خلیجِ فارس میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جنگی گروپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

Advertisement