زیلنسکی کے بیانات زاپوروژیا ایٹمی پلانٹ پر حملے کا عندیہ ہے، کریملن

Zaporozhye nuclear power plant Zaporozhye nuclear power plant

زیلنسکی کے بیانات زاپوروژیا ایٹمی پلانٹ پر حملے کا عندیہ ہے، کریملن

ماسکو (صداۓ روس)
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی حالیہ گفتگو پر روس نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے کریملن کے مطابق زاپوروجیے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ممکنہ حملے کے ارادے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ زیلنسکی کے بیانات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا کییف طاقت کے ذریعے اس ایٹمی تنصیب پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ زیلنسکی نے جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکا کی ثالثی میں ہونے والے روس۔یوکرین مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل کہا تھا کہ یوکرین دونباس اور زاپوروجیے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو بغیر لڑے نہیں چھوڑے گا۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن نے کہا کہ یہ موقف نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پاور پلانٹ کی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جو سن ۲۰۲۲ سے روس کے کنٹرول میں ہے۔

دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ زیلنسکی کے الفاظ اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ کییف حکومت طاقت کے استعمال پر غور کر رہی ہے، حالانکہ اس نوعیت کی کسی بھی کارروائی کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ روس متعدد بار یوکرین پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ زاپوروجیے ایٹمی پلانٹ کے گرد حملوں کے ذریعے کسی ایٹمی اشتعال انگیزی کی کوشش کر رہا ہے۔

Advertisement

اسی ماہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان زاپوروجیے ایٹمی پلانٹ کے قریب محدود جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے تاکہ ضروری مرمتی کام انجام دیے جا سکیں۔ اس کے باوجود، کریملن کا کہنا ہے کہ کییف کی حالیہ بیان بازی اس نازک انتظام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

پیسکوف نے دونباس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میدانِ جنگ کی حقیقتیں خود بول رہی ہیں، جہاں روسی افواج گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق زیلنسکی کا علاقائی معاملات اور زاپوروجیے ایٹمی پلانٹ پر کسی بھی سمجھوتے سے انکار، امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے ہوا تھا، جبکہ دوسرا دور رواں ہفتے ابو ظہبی میں متوقع ہے۔ تاہم علاقائی تنازعات اور علاقائی دستبرداری کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماسکو مذاکرات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر بات چیت ناکام ہوئی تو وہ فوجی راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

یاد رہے کہ سن ۲۰۲۲ میں یوکرین تنازع کے بعد دونیتسک اور لوگانسک عوامی جمہوریات کے ساتھ ساتھ خیرسون اور زاپوروجیے کے علاقوں نے ریفرنڈم کے ذریعے روس میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے کییف نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان علاقوں کی واپسی پر اصرار جاری رکھا ہوا ہے۔