روسی جنرل پر قاتلانہ حملہ ناکام، مبینہ حملہ آور دبئی سے گرفتار، ایف ایس بی
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وفاقی سلامتی ادارے ایف ایس بی نے ماسکو میں ایک سینئر فوجی انٹیلی جنس جنرل پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام بنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کیس میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔ ایف ایس بی کے مطابق مبینہ حملہ آور کو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے دبئی میں گرفتار کر کے روس کے حوالے کر دیا گیا۔ ایف ایس بی کے مطابق جمعے کے روز روس کے مرکزی فوجی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو کے پہلے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادی میر الیکسییف کو ان کی رہائش گاہ کے باہر پیٹھ میں تین گولیاں ماری گئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اتوار کو جاری بیان میں ایف ایس بی نے بتایا کہ مبینہ فائرنگ کرنے والا پینسٹھ سالہ روسی شہری لیوبومیر کوربا ہے، جسے اماراتی حکام کی مدد سے دبئی میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں روسی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ کوربا، جو مغربی یوکرین میں پیدا ہوا تھا، گزشتہ برس دسمبر کے اواخر میں یوکرینی سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر ماسکو آیا تھا تاکہ ایک ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ انجام دی جا سکے۔
ایف ایس بی نے مزید بتایا کہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن میں چھیاسٹھ سالہ روسی شہری وکٹر واسین شامل ہے، جسے ماسکو میں گرفتار کیا گیا، جبکہ چون برس کی زینائدا سیریبریتسکایا کے یوکرین فرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں مبینہ حملہ آور کو واقعے کے مقام سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ سائلنسر لگی پستول نما چیز برف میں پھینک کر بس میں سوار ہوتا نظر آتا ہے، جبکہ ایک اور ویڈیو میں ایف ایس بی اہلکار ایک مشتبہ شخص کو ہوائی جہاز سے اتارتے دکھائی دیتے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ روس کے صدر نے ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مبینہ حملہ آور کی گرفتاری میں تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اسے ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ایک بار پھر ولادی میر زیلنسکی کی حکومت کی جانب سے اشتعال انگیزیوں اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے عزائم کی تصدیق ہوتی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی وزیر خارجہ آندرے سیبیگا نے اس حملے میں کییف کے کسی بھی کردار کی تردید کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ولادی میر الیکسییف دو ہزار گیارہ سے اپنے عہدے پر فائز ہیں اور ان کے دور میں شام میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی کی گئی۔ دو ہزار سترہ میں انہیں ہیرو آف رشین فیڈریشن کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔