سی آئی اے نے ایران میں معلومات دینے والوں کی بھرتی شروع کر دی

Iranian generals Iranian generals

سی آئی اے نے ایران میں معلومات دینے والوں کی بھرتی شروع کر دی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) نے ایران میں ممکنہ معلومات دینے والوں سے رابطے کی اپیل کی ہے اور انہیں محفوظ طریقے سے رابطہ قائم کرنے کی تکنیکی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ دو منٹ کی ویڈیو منگل کو فارسی زبان میں ایکس، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر شائع کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ “سی آئی اے آپ کی آواز سن سکتی ہے اور آپ کی مدد کرنا چاہتی ہے۔” ویڈیو میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) اور ٹور نیٹ ورک کا استعمال تجویز کیا گیا ہے جبکہ کاروباری کمپیوٹرز یا آفس فونز استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ بھرتی مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہائی سطح پر پہنچ چکی ہے۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی تیاریاں کی ہیں جن میں حالیہ ہفتوں میں دو ایئر کرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس اور اضافی فضائی اثاثے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ جوہری پروگرام پر ان کے شرائط قبول نہ کرے گا تو “بہت برا دن” آئے گا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ جوہری مذاکرات کا نیا دور جمعرات کو جنیوا میں شروع ہونے والا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوہری معاہدے کو “قریب” قرار دیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام “ریڈ لائن” ہے اور اس پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سویلین ہے۔
سی آئی اے نے ماضی میں بھی اسی طرح کی مہم چلائی تھی جن میں چینی، کورین اور روسی زبانوں میں ویڈیوز جاری کی گئی تھیں۔ مئی 2025 میں چینی زبان کی بھرتی ویڈیوز پر بیجنگ نے شدید تنقید کی تھی اور انہیں “سیاسی اشتعال انگیزی” قرار دیا تھا۔ چین کی وزارت خارجہ نے “غیر ملکی دخل اندازی اور تخریب کاری کے خلاف تمام ضروری اقدامات” کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
روس کی خارجہ انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) نے گزشتہ سال سی آئی اے کی روسی زبان کی اپیل پر مذاق اڑایا تھا اور کہا تھا کہ یہ “پرانے ہالی ووڈ ٹراپس” پر مبنی ہے۔ روس نے اپنی ویڈیو جاری کی تھی جس میں امریکی خفیہ افسران سے یوکرین تنازع حل کرنے میں تعاون کی اپیل کی گئی تھی اور کییف حکومت کو “نازی اثرات اور وسیع پیمانے پر کرپشن” سے آلودہ قرار دیا تھا۔